خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 98
خلافة على منهاج النبوة ۹۸ جلد دوم واجب الاطاعت خلیفہ کوئی نہیں۔کثرت مسلمین کے فیصلہ کے مطابق عمل ہوا کرے گا کیونکہ کسی ایک شخص کو امیر واجب الاطاعت ماننا لا حُكْمَ الَّا لِلہ اس کے خلاف ہے۔خلافت کے بارہ میں پہلا حضرت علی کی خلافت بلا فصل کا نظریہ انتقال تھا جو واقع ہوا۔اس موقع پر جو لوگ حضرت علی کی تائید میں تھے انہوں نے ان امور کا جواب دینا شروع کیا اور جواب میں یہ امر بھی زیر بحث آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض پیشگوئیاں حضرت علی کے متعلق ہیں۔یہ پیشگوئیاں جب تفصیل کے ساتھ بیان ہونی شروع ہوئیں تو ان پر غور کرتے ہوئے بعض غالیوں نے یہ سوچا کہ خلافت پر کیا بحث کرنی ہے۔ہم کہتے ہیں حضرت علی کی خلافت کسی انتخاب پر مبنی نہیں بلکہ صرف ان پیشگوئیوں کی وجہ سے ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کی تھیں اس لئے آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ خلیفہ بلا فصل ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے میرے متعلق جب مصلح موعود کے موضوع پر بحث کی جائے تو کوئی شخص کہہ دے کہ ان کو تو ہم اس لئے خلیفہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں ہیں نہ اس لئے کہ ان کی خلافت جماعت کی اکثریت کے انتخاب سے عمل میں آئی۔جس دن کو ئی شخص ایسا خیال کرے گا اُسی دن اس کا قدم ہلاکت کی طرف اُٹھنا شروع ہو جائے گا کیونکہ اس طرح آہستہ آہستہ صرف ایک شخص کی امامت کا خیال دلوں میں راسخ ہو جاتا ہے اور نظامِ خلافت کی اہمیت کا احساس ان کے دلوں سے جاتا رہتا ہے۔غرض حضرت علیؓ کے متعلق بعض غالیوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں سے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ کی خلافت صرف ان پیشگوئیوں کی وجہ سے ہے جو آپ نے ان کے متعلق کیس کسی انتخاب پر مبنی نہیں ہے۔پھر رفتہ رفتہ وہ اس طرف مائل ہو گئے کہ حضرت علی در حقیقت امام بمعنی مامور تھے اور یہ کہ خلافت ان معنوں میں کوئی شے نہیں جو مسلمان اس وقت تک سمجھتے رہے ہیں بلکہ ضرورت پر خدا تعالیٰ کے خاص حکم سے امام مقرر ہوتا ہے اور وہ لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کا موجب ہوتا ہے۔