خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 40

خلافة على منهاج النبوة جلد اول اختلاف کی مصیبت کو ٹال دے اور احمدی جماعت پھر شاہراہ ترقی پر قدم زن ہو۔خوب یاد رکھو کہ گوا کثر حصہ جماعت بیعت کر چکا ہے مگر تھوڑے کو بھی تھوڑا نہ سمجھو کیونکہ ایک باپ یا ایک بھائی کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کے دس بیٹوں یا بھائیوں میں سے ایک بھی جدا ہو جائے پس ہم کیونکر پسند کر سکتے ہیں کہ ہمارے بھائیوں میں سے بعض کھوئے جائیں خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔پھر میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ فتنہ کی مجلسوں میں مت بیٹھو کیونکہ ابتداء میں انسان کا ایمان ایسا مضبوط نہیں ہوتا کہ وہ ہر ایک زہر سے بچ سکے۔پس ایسا نہ ہو کہ تم ٹھوکر کھاؤ۔ان دو نصیحتوں کے علاوہ ایک اور تیسری نصیحت بھی ہے اور وہ یہ کہ جہاں جہاں تمہیں معلوم ہو کہ اختلاف کی آگ بھڑک رہی ہے وہاں وہ لوگ جو مضبوط دل رکھتے ہیں اپنے وقت کا حرج کر کے بھی پہنچیں اور اپنے بھائیوں کی جان بچائیں اور جو ایسا کریں گے خدا کی اُن پر بڑی بڑی رحمتیں ہوں گی۔فتنے ہیں اور ضرور ہیں مگر تم جو اپنے آپ کو اتحاد کی رسی میں جکڑ چکے ہو خوش ہو جاؤ کہ انجام تمہارے لئے بہتر ہو گا۔تم خدا کی ایک برگزیدہ قوم ہو گے اور اس کے فضل کی بارشیں إِنْشَاءَ اللہ تم پر اس زور سے برسیں گی کہ تم حیران ہو جاؤ گے۔میں جب اس فتنہ سے گھبرایا اور اپنے رب کے حضور گرا تو اس نے میرے قلب پر یہ مصرعہ نازل فرمایا کہ شکراللہ مل گیا ہم کو وہ لعلِ بے بدل اتنے میں مجھے ایک شخص نے جگا دیا اور میں اُٹھ کر بیٹھ گیا مگر پھر مجھے غنودگی آئی اور میں اس غنودگی میں اپنے آپ کو کہتا ہوں کہ اس کا دوسرا مصرعہ یہ ہے کہ کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہو گیا مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ دوسرا مصرعہ الہامی تھا یا بطور تفہیم تھا۔پھر کل بھی میں نے اپنے رب کے حضور میں نہایت گھبرا کر شکایت کی کہ مولا ! میں ان غلط بیانیوں کا کیا جواب دوں جو میرے برخلاف کی جاتی ہیں اور عرض کی کہ ہر ایک بات حضور ہی کے اختیار میں ہے اگر آپ چاہیں تو اس فتنہ کو دور کر سکتے ہیں تو مجھے ایک جماعت کی