خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 25

خلافة على منهاج النبوة ۲۵ جلد اول کلمات طیبات ( حضرت مصلح موعود کی بیعت خلافت کے وقت پہلی تقریر ) فرموده ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء)۔اشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ سنو! دوستو! میرا یقین اور کامل یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔میرے پیارو! پھر میرا یقین ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔میرا یقین ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص نہیں آ سکتا جو آپ کی دی ہوئی شریعت میں سے ایک شوشہ بھی منسوخ کر سکے۔میرے پیارو! میرا وہ محبوب آقاسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عظیم الشان شان رکھتا ہے کہ ایک شخص اس کی غلامی میں داخل ہو کر کامل اتباع اور وفاداری کے بعد نبیوں کا رُتبہ حاصل کر سکتا ہے۔یہ سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ایسی شان اور عزت ہے کہ آپ کی کچی غلامی میں نبی پیدا ہو سکتا ہے یہ میرا ایمان ہے اور پورے یقین سے کہتا ہوں۔پھر میرا یقین ہے کہ قرآن مجید وہ پیاری کتاب ہے جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور وہ خاتم الکتب اور خاتم شریعت ہے۔پھر میرا یقین کامل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہی نبی تھے جس کی خبر مسلم میں ہے اور وہی امام تھے جس کی خبر بخاری میں ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ شریعت اسلامی سے کوئی حصہ اب منسوخ نہیں ہوسکتا۔صحابه کرام رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِمُ اَجْمَعِینَ کے اعمال کی اقتداء کرو۔وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور کامل تربیت کا نمونہ تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرا