خزینۃ الدعا

by Other Authors

Page vi of 267

خزینۃ الدعا — Page vi

حَزِينَةُ الدُّعَاءِ iii قرآنی دعائیں پیش لفظ ماں باپ کتنے ارمانوں اور چاہ سے اپنے معصوم بچوں کی تربیت کرتے اور انہیں زبان سکھاتے ہیں۔انہیں ابو امی کہنا اور پانی ، دودھ، روٹی مانگنا بتاتے ہیں ، اور جب بچہ مانگنے کا سلیقہ سیکھ کر توتلی زبان میں تقاضا کرنے لگتا ہے تو پھر کتنے خوش ہو کر اس کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔بعض دفعہ ان کم سن معصوموں کی طلب کی کوئی ادا دیکھ کر دل کرتا ہے کہ سب کچھ ان پر نچھاور کر دیا جائے۔بایں ہمہ نہ تو ان معصوموں کی طلب کی کوئی حیثیت ہوتی ہے نہ دینے والے کی استطاعت کا کوئی پیمانہ۔ہمارے رب کریم نے بھی جو ماں باپ سے کہیں زیادہ اپنی مخلوق سے پیار کرتا ہے ہمیں خود مانگنے کے گر سکھائے ہیں یہ کہہ کر کہ مجھ سے مانگو میں تمہیں عطا کروں گا۔اور پھر خود دعاؤں کے وہ الفاظ بھی سکھائے کہ کس طرح کن محبت بھرے عاجزانہ الفاظ میں اپنے رب کے سامنے دست سوال دراز کیا کرو؟ کیا یہ سب کچھ اس لئے نہیں کہ وہ اپنے بندوں کو نواز نا چاہتا ہے۔یقیناً یہ تو عطا کرنے کے بہانے ہیں۔رحمت باری بہانہ می جوید قرآنی دعاؤں میں ہمارے رب کریم نے طلب کے پیمانے بھی ہمیں خود عطا کیے اور عطا کرنے والے کی وسعتوں کے بحر بے کراں کا تو کوئی حساب شمار ہی نہیں۔اس لئے ان قرآنی دعاؤں کی بہت عظیم تاثیرات ہیں اور ان دعائیہ تاثیرات کے سب سے صلى الله بڑے راز دان یقیناً ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفے یہ ہیں۔وہ حبیب کبریاء جن کی زبان پر پہلی مرتبہ یہ الہامی دعائیں جاری ہو ئیں اور شرف قبول کو پہنچیں۔اگر حضرت آدم اور یونس علیہ السلام کو دعائیہ کلمات سکھا کر اور پھر قبول کر کے ان کی نجات کے سامان کئے