خزینۃ الدعا — Page 19
خَزِينَةُ الدُّعَاءِ 19 قرآنی دعائیں اے ہمارے رب! ہمارا نور ہمارے فائدے کے لئے پورا کر دے اور ہمیں معاف فرما، تو ہر چیز پر قادر ہے۔(40) حالت اسلام پر موت اور انجام بخیر کی دعا حضرت یوسف علیہ السلام کو قید کے ابتلاء کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے حکومت عطا کی اور آپ کے بھائی والدین کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے شکرانہ کے طور پر سیہ دعا کی:۔رَبِّ قَدْ أَتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيْلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ أَنْتَ وَلِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ * تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَالْحِقْنِي بِالصُّلِحِينَ (يوسف:١٠٢) اے میرے رب! تو نے مجھے حکومت کا ایک حصہ بھی عطا کیا ہے اور تعبیر الرؤیا کا بھی کچھ علم تو نے مجھے بخشا ہے۔(اے) آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے تو (ہی) دنیا اور آخرت (دونوں) میں میرا مددگار ہے۔(جب بھی میری موت کا وقت آئے ) مجھے اپنی کامل فرماں برداری کی حالت میں وفات دے اور صالحین ( کی جماعت ) کے ساتھ ملادے۔(41) حصول خیر کی عاجزانہ دعا حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حالت اس دعا کے وقت فاقہ سے ایسی ہو چکی تھی کہ کھجور کے ٹکڑے کے بھی محتاج تھے۔(تفسیر الدر المخور للسیوطی جلد 5 صفحہ 125 ) پھر خدا نے نہ صرف ان کے قیام وطعام کا بندوبست کیا بلکہ غریب الوطنی میں گھر بار اور شادی کا انتظام بھی کر دیا۔رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (القصص: ۲۵) اے میرے رب ! اپنی بھلائی میں سے جو کچھ تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔19