خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 448 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 448

خطابات طاهر قبل از خلافت جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود 21 چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا 21 کوکل دیکھ کر چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے 21 حرم کعبہ نیابت بھی نئے تم بھی نئے 222 خدایا تیرے فضلوں کو کروں یاد 66 دولت ہے نہ عزت نہ فضیلت نہ ہنر ہے 222۔رکھ پیش نظر وہ وقت بہن جب زندہ گاڑی جاتی تھی شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود 222 صدا اور ہے بلبل نغمہ خواں کی 222 صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے 133 فریاد ہے کشتی امت کے نگہبان 222 90 8 وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا اشعار (عربی) 80 إني أرى فِي وَجْهِكَ الْمُتَهَلِلِ 311 الا أَقومُ الدَّهْرَ فِي الْكَيُّول أَنَا الَّذِي عَاهَدَنِي خَلِيْلَيْ 341 341 82,312 أَنْظُرُ إِلَى بِرَحْمَةٍ وَتَحَيْنِ جِسْمِي يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوْقٍ عَلَى 311 صَادَفَتَهُمْ قَوْمًا كَرَوُثِ ذِلَّةٌ الصَّالِحُونَ الْخَاشِعُونَ لِرَبِّهِمُ فَدَمُ الرِجَالِ لِصِدْقِهِمْ فِي حُبِّهِمْ 97 290 96,303 334 فَظَلْتُ عَدْوَا أَظُنْ الْأَرْضَ مَائِلَةً کبھی بلبلوں کی صدا میں سن کبھی دیکھ گل کے نکھار میں 139 کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا 35 کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تیری جبین نیاز میں 139 کہاں کہاں میں بچاؤں کہاں کہاں دیکھوں 224 66 کہا! ہرگز نہیں ہوں گے یہ برباد کہیں تازگی کا نہیں نام جس پر 222 کیا عجب تو نے ہر اک ذرہ میں رکھے ہیں خواص 21 کیا نہ بیچو گے جول جائیں منم پتھر کے ؟223 کیجئے اب دعا کہ اے مالک کیوں عجب کرتے ہوگر میں آ گیا ہو کر مسیح 231 مجھے دیکھ رفعت کوہ میں مجھے دیکھ پستی کاہ میں 139 مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں 139 226 فَقُلْتُ وَيْلٌ لِابْن حَرْب عَنْ لِقَائِهِمْ 334 96,303 قَامُوا بِأَقْدَامِ الرَّسُولِ لِغَزُوهِمُ كَذَبْتُمْ وَبَيْتُ اللهِ تُخْلِى مُحَمَّداً 354 288 لَهِ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ غَيِيٌّ مِرْجَلٍ وَارَى الْقُلُوبَ لَدَى الْحَنَاجِرَ كُرْبَةً 424 وَتَوَرَّمَتْ قَدَ مَاكَ لِلَّهِ قَائِمًا يَا حِبِّ إِنَّكَ قَدْ دَخَلَتْ مَحَبَّةٌ يَا رَبِّ صَلِّ عَلَى نَبِيِّكَ دَائِمًا يَا عَيْنَ فَيُضِ اللَّهِ وَالْعِرُفَانِ اشعار (فارسی) این چشمہ رواں کہ خلق خداد ہم میری ایک شان خزاں میں ہے میری ایک شان بہار میں 139 اے محبت عجب آثار نمایاں کردی نہیں پھول پھل جس میں آنے کے قابل 222 نہیں تازگی کا نہیں نام جس پر 222 100 نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن، تم ہو 223 وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود 222 وہ پیشوا ہمارا جس سے نور سارا وہ دین ہوئی بزم جہاں جس سے چراغاں 222 وہ دیں کہ ہمدرد بنی نوع بشر تھا 222 ہاں اک دعا تیری کہ مقبول خدا ہے 222 ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج ہوئے روکھ جس کے جلانے کے قابل 222 ہے اس سے یہ ظاہر کہ یہی حکم خدا ہے 222 یہی ہیں پنج تن جن پر بنا ہے تیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ 232 66 80 بروں آئے زمنزل اختفاء بیا اے امام ہدایت شعار زور ئے ہمایوں بیفکن نقاب صد حسین است در گریبانم لوائے ماہ پنہ ہر سعید خواهد بود! اصحاب الصفہ 229 اطفال الاحمدیہ 125,126 288 311 312,369 82 195 352 225 225 225 223 133 افریقہ 77,123,253 افغان را فغانستان 264,269 ڈاکٹر سر محمد اقبال 139179,207