خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 17

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 17 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱۰ ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالیٰ بر موقع جلسه سالانه ۱۹۶۲ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا: ہستی باری تعالیٰ اور ارتقائے انسانی کا مضمون ایک نہایت اہم اور وسیع مضمون ہے اور یہ ممکن نہیں کہ اس کے تمام پہلوؤں کو اس مختصر وقت میں بیان کیا جا سکے۔اس مشکل کے پیش نظر میں نے اس کے صرف ابتدائی تمہیدی حصہ کو تعارف کے طور پر آج کی تقریر کے لئے چنا ہے۔سب سے پہلے تو اس مضمون کی اہمیت کو واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ میرے علم کے مطابق اکثر احباب اس کی اہمیت سے واقف نہیں حتی کہ بہت سے علماء بھی مذہب سے اسکا بہت دور کا واسطہ سمجھتے ہیں۔اس کے بعد میں عام فہم زبان میں ارتقاء کا مفہوم احباب کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا اور سورہ فاتحہ سے عمومی طور پر اس پر جو روشنی پڑتی ہے اس سے احباب کو روشناس کراؤں گا۔سورہ فاتحہ کے علاوہ بھی قرآن کریم میں بیسیوں آیات ایسی ہیں جو اس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں اور انسانی پیدائش کے متعلق ایک مکمل نقشہ پیش کرتی ہیں۔مگر ناممکن ہے کہ اس وقت میں سائنس کے انکشافات کی روشنی میں ان پر تفصیلی بحث تو در کنار ان کا مختصر ذکر بھی کیا جاسکے۔انسانی پیدائش کا سوال یا یوں کہنا چاہئے کہ زندگی کی پیدائش کا سوال ہمیشہ انسانی ذہن کے لئے بیک وقت دلچسپی اور پریشانی کا موجب بنارہا ہے۔فلسفہ اور سائنس کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح سے ہزاروں سال قبل کے فلسفیوں نے بھی اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کی اور آج کے