خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 124 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 124

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 124 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء بڑے شاداب اور پر بہار تھے اور میٹھے پھل دے رہے تھے۔لیکن رفتہ رفتہ مرکزی نہروں کے زندگی بخش پانی سے ان کا تعلق کم ہو گیا اور ان میں سے کچھ خشکی اور پژمردگی کا شکار ہونے لگے۔خلافت را شدہ احمدیہ کی عظیم الشان برکات میں سے ایک برکت یہ بھی ہے کہ اس نے ان علاقوں کے لئے ایک مزید تقویتی نظام جاری کیا اور وقف جدید کو جاری کر کے اندرون ملک میں چھوٹی چھوٹی روحانی نہروں کا ایک جال پھیلا دیا تا کہ ایک چپہ زمین بھی ایسی نہ رہے جو خلافت احمدیہ کے روحانی آب حیات سے براہ راست سیراب نہ ہو۔ابھی اس نظام کو جاری ہوئے صرف چند سال کا عرصہ گزرا ہے لیکن اس کے اثرات ہر طرف روحانی شادابی کی صورت میں ظاہر ہونے لگے ہیں اور بہت سے ایسے خطہ ہائے احمدیت ہیں جہاں نئی زندگی کا پیغام لئے ہوئے یہ نہریں جا پہنچی ہیں۔ہر شاخ ہری ہو رہی ہے اور ہر پتے میں جان پڑ رہی ہے۔نئی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں اور چمن کے صحنوں کو وسعت مل رہی ہے۔بہت سے ایسے دل کش مناظر ہیں کہ دیکھ کر آنکھوں میں طراوت آتی ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر بے اختیار زبان پر آ جاتا ہے: بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں کھلے ہیں پھول میرے بوستاں میں ( در تمین صفحه: ۵۰) کیوں نہ دل ان مناظر کو دیکھ کر خوش ہو کہ بعض ایسی مسجد میں جو کبھی نمازیوں کی کمی کی شکایت کرتی تھیں اب زبان حال سے وَسِعْ مَكَانَكَ۔وَسِعْ مَكَانَگ پکار رہی ہیں۔کیوں نہ دل ان مناظر کو دیکھ کر خوش ہو کہ بہت سے احمدی بچے جو کبھی اپنے گھروں میں بھی نماز سے غافل تھے اب پو پھٹتے ہی گھروں سے نکلتے ہیں اور درود شریف کا ورد کرتے ہوئے دیہات کی گلیوں میں پھرتے ہیں۔معصوم زبانوں میں جاری یہ درود کے نغمات دوسرے بچوں اور جوانوں اور بوڑھوں کو بیدار کرتے ہیں۔اور صَلَّ عَلَى نَبِيِّنَا۔صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ کی صداؤں سے دیہات تک کی فضا مترنم ہو جاتی ہے۔نمازیوں سے مسجد میں بھر جاتی ہیں اور تلاوت کی آواز سے روحیں وجد کر نے لگتی ہیں۔