خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 528 of 660

خطابات نور — Page 528

ترُکی چندہ کے متعلق قولِ فیصل میں نے سنا ہے کہ تم لوگوں کا خیال ہے کہ ترکی چندے کے متعلق میں نے کوئی قول فیصل نہیں دیا۔یہ تمہاری نافہمی ہے۔میں کھول کر سناتا ہوں کہ ہر نیک کام میں چندہ دینے کو میں اچھا سمجھتا ہوں ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی میں بھی میں آپ چندہ دینا چاہتا ہوں لیکن یہ معاملات مجھے معلوم نہیں ہوتے اس لئے ان میں معذور ہوں۔تمہارا خیال ہوگا کہ میں چپ بیٹھا ہوں ہرگز نہیں۔دیکھو میں نے بہت کوشش کی تاکہ مجھے یہ معلوم ہوسکے کہ غریب مسلمانوں کا روپیہ ضائع نہ ہو اور ترکی مجروحین کو پہنچ جانے کا ثبوت مل جائے اس لئے میں نے کرانچی ‘مدراس‘ کلکتہ ‘ برہما ‘ کولمبوقونصلوں کو ضروری خطوط لکھے۔ان میں سے کسی نے جواب نہ دیا۔ہاں البتہ کولمبو والے نے اتنا جواب دیا کہ عبدالحمید ظالم تھا اب جو بادشاہ ہیں بڑے نیک ہیں۔میرابڑا جی چاہا کہ اگر ایک بھی اور گواہ ہوجائے مگر مجھے تو میسر نہ ہوا۔البتہ اب تم اگر اس سے زیادہ تحقیقات کر کے اطمینان حاصل کرسکتے ہو کہ یہ روپیہ ترُک مجروحین کو پہنچ جائے گا تو اس چندے میں حصہ لو۔اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں ہے۔تم سے دو کروڑ مانگا جاتا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر چودہ کروڑ بھی دینے سے ایک مسلمان سلطنت بچ جائے تو پھر بھی یہ سودا سستا ہے۔کشمیر کو قریباًکروڑ روپے سے ہندوراجہ نے مول لیا تھا۔ترُکی سلطنت اگر دو کروڑ سے بچتی ہے توخوشی کی بات ہے۔میں نے مولوی محمد علی سے کہا تھا کہ (المائدۃ:۳)نہایت پاک کلمہ ہے۔ہر ایک نیکی میں ،نیک کام میں، تقویٰ میں مدد کرنا چاہیے۔اگرچہ تاریخ میں میں نے نہیں سنا کہ جب ہندوستان کے مسلمان غرق ہونے لگے تھے تو ترکوں نے کچھ ہماری مدد کی تھی اور کیا کچھ چندہ دیا تھا۔لیکن ہم کو صرف اتنی سی بات سے نیکی کرنے سے نہیں رکنا چاہیے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ نیک سلوک نہ کیا لیکن یہ اطمینان ہونا ضروری ہے کہ چندہ وہاں پہنچتاہے اور پھر وہ مجروحین ہی