خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 490
490 خلافت راشدہ کے بعد قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے اس عظیم الشان انعام کی ناقدری کی جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ انعام چھین لیا۔پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ یہ انعام ہمیں ملا ہے۔اس کے ہمیشہ قائم رہنے کے لئے جہاں ہمیں دعائیں کرتے رہنا چاہئے وہاں اس کے مطابق اعمال صالحہ بھی بجالاتے رہنا چاہئے۔وہ اعمال صالحہ کیا ہیں خلیفہ وقت سے تعلق۔آپ کی اطاعت، خلیفہ وقت کی ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا۔ہر ایسے عنصر سے الگ رہنا جو نظام سلسلہ اور خلیفہ وقت سے بغاوت رکھتا ہو۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:- لا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادٌ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَ هُمْ أَوْ أَبْنَاءَ هُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيْرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ۔أُولَئِكَ حِزْبُ اللهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (سورة المجادلة : 23) ترجمہ: تو ایسی قوم نہ پائے گا جو اللہ اور یوم آخر پر بھی ایمان لاتی ہو اور اللہ اس کے رسول کی شدید مخالفت کرنے والے سے بھی محبت رکھتی ہو خواہ ایسے لوگ ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا ان کے خاندان میں سے ہوں یہی مومن ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش کر دیا ہے اور اپنی طرف سے کلام بھیج کر ان کی مدد کی ہے۔وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں رہتے چلے جائیں گے اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے وہ اللہ کا گردہ ہے اور سن رکھو اللہ کا گروہ ہی کامیاب ہوتا ہے۔میری بہنو! اس زمانہ میں اللہ نے اسلام کی ترقی کو خلافت احمدیہ سے وابستہ کیا ہے۔اگر آپ چاہتی ہیں کہ جلد از جلد جماعت ترقی کرے، اسلام پھیلے تو اپنے گھروں اور اپنی اولادوں کو ایمان کے لحاظ سے ایسا مضبوط بناؤ کہ شیطان کسی طرف سے حملہ نہ کر سکے۔حضرت آدم کے وقت سے شیطان خدا تعالیٰ کا دشمن رہا ہے۔اس کا سر کچلنے کے لئے ہی آدم ثانی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ نے بھیجا ہے اور یہی کام آپ کی جماعت کے ہر فرد کا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہر ارشاد اور تحریک پر لبیک کہنا آپ کا فرض ہے۔