خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 473
473 فرمایا۔جو اپنی جماعت سے محبت کرتا ہے اور اپنی بہترین دعائیں اس کیلئے وقف رکھتا ہے اور جماعت بھی اپنے پیارے امام سے ایسی محبت کرتی ہے جس کی اس زمانہ میں نظیر نہیں ملتی۔اور اس کی شب و روز کی دعا ئیں اپنے پیارے آقا کیلئے وقف ہیں۔حضور کا یہ سفر کئی امتیازی نشانات کا حامل ہے۔احمدی مستورات کے خلوص ان کے جذبہ قربانی اور دین کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے عہد کی جھلک بھی اس سے ظاہر ہے۔اس وقت عورتوں کی جو مختلف عالمگیر تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔اُن میں سے لجنہ اماءاللہ کی تنظیم اس لحاظ سے منفرد ہے کہ وہ تنظیمیں دنیا کیلئے کام کرتی ہیں لیکن یہ تنظیم صرف دین کے کام کرنے کیلئے قائم ہوئی ہے۔کوپن ہیگن کی مسجد نصرت جہاں“ اور حضور کا یہ سفر یورپ اس کی واضح دلیل ہے۔اس مبارک اور کامیاب سفر کے ذریعہ یورپ کے احمدی بھائیوں اور بہنوں کو حضور کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔اور اس کے ساتھ ہی حضور کو یورپ میں تبلیغ اسلام کی توفیق عطاء ہوئی۔اور خدائی نوشتوں کے مطابق آنے والی عظیم تباہی سے وہاں کے لوگوں کو متنبہ کرنے کا موقع میسر آیا۔خدا نے محض اپنے فضل سے یہ دونوں مقاصد نہایت شاندار طور پر پورے کئے۔وہاں کے مخلص احمدیوں نے صداقت احمدیت کے عظیم الشان نشان دیکھے۔اپنے ایمان اور روحانی قوت کو بڑھانے کا موقع پایا۔اور حضور کے کلمات طیبات سننے کا شرف حاصل کیا اور ایک نئی روحانی بیداری پیدا ہوئی۔اور برکات خلافت کے متعلق تازگی ایمان انہیں میسر آئی۔اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا ہے کہ وہ اس سفر کو مستقبل کیلئے نشان بنادے۔اس کے عظیم الشان نتائج ظاہر ہوں۔وہ لوگ خدا کی گود میں پناہ پائیں۔چین اور راستی ان کے نصیب ہو۔اور عظیم تباہیوں سے وہ بچ جائیں۔اسلام کی صداقت اور پیارے آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روشن اور نورانی چہرہ ان کو نظر آ جائے۔مسجد نصرت جہاں جو حضور کے عہد خلافت میں یورپ میں تعمیر ہونے والی پہلی مسجد ہے۔اُن علاقوں میں اشاعت اسلام کا مرکز بن جائے۔افتتاح کے موقع پر اس سے قبل اور بعد اس مسجد کے مبارک ہونے اور اس سے شاندار نتائج برآمد ہونے کیلئے حضور نے اور حضور کے ساتھ جماعت نے جو دعائیں کیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور شرف قبولیت پائیں۔آمین۔ہم سیدہ منصورہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ کو بھی اھلا و سھلا کہتی ہیں جو حضور کے ہمسفر رہ کر حضور کے اہم