حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ

by Other Authors

Page 23 of 34

حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ — Page 23

حضرت خدیجتہ الکبری 23 23 بنو عبد المطلب اور تمام مسلمان فاقے برداشت کرتے ہوئے ہلاک ہو جاتے کہ اللہ تعالی نے حضور میلے کو مطلع فرمایا کہ جس کا غذ پر کفار نے معاہدہ لکھا تھا اسے دیمک چاٹ گئی ہے اور صرف اللہ کا نام باقی رہ گیا ہے۔حضور ﷺ نے یہ بات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا سے بیان کی۔انہوں نے مشورہ دیا کہ اس بات کا ذکر حضرت ابو طالب سے کر دینا مناسب ہے۔چنانچہ حضور علی نے حضرت ابوطالب سے اس کا ذکر فر مایا۔حضرت ابوطالب کفار قریش کے پاس گئے اور کہا کہ میرے بھتیجے نے مجھے بتایا ہے کہ تمہارے لکھے ہوئے معاہدہ کو دیمک چاٹ گئی ہے اور اس پہ صرف اللہ کا نام باقی رہ گیا ہے۔اگر یہ بات درست ہے تو تمہیں اپنے ظالمانہ طرز عمل سے باز آنا پڑے گا لیکن خدانخواستہ اس نے جھوٹ بولا ہے تو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں اسے تمہارے حوالہ کردوں گا خواہ تم اسے قتل کرو خواہ چھوڑ دو۔حضرت ابو طالب کی یہ بات سن کر انہوں نے خانہ کعبہ کی چھت سے معاہدہ کا کا غذ اتارا۔جب اسے کھولا گیا تو اس کی حالت بالکل ویسی ہی تھی صلى الله جیسی حضور ع نے بیان فرمائی تھی۔یہ دیکھ کر بعض لوگ جو اس ظالمانہ رقیہ کے خلاف تھے لیکن قوم کی مخالفت کی وجہ سے کچھ نہیں کر سکتے تھے کہنے لگے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس معاہدہ کو منسوخ کر دیا جائے اس کے بعد