حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ — Page 21
حضرت خدیجہ الکبری 21 انتہائی صبر آزما ثابت ہوا۔قریش ان تک کھانے پینے کی کوئی چیز پہنچنے نہ دیتے تھے۔بھوک اور پیاس کے باعث ان کے بچوں کے رونے کی آواز میں گھائی کے باہر قریش تک پہنچتی تھیں لیکن ان سنگ دلوں کو بالکل رحم نہ آتا تھا۔بھوک کی حدت کا یہ عالم تھا کہ وہ پتے چبا چبا کر گزارہ کرتے تھے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے بھی یہ تمام زمانہ انتہائی صبر اور استقلال کے ساتھ گذارا باوجود یہ کہ آپ کی عمر ساٹھ برس کے لگ بھگ ہو چکی تھی لیکن آپ نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تکلیف اور کرب کا اظہار نہ کیا۔اس کٹھن دور میں وہ حضور ﷺ کا خیال رکھنے والی غم خوار تھیں اور دیگر مسلمانوں کو بھی ہر وقت تسلی دیتی رہتی تھیں۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا اس وقت تمام مسلمانوں کے لئے نمونہ تھیں۔اس نازک وقت میں حضرت خدیجہ رضی اللہ علما کے بعض عزیز قریش کی نظروں سے چھپ کر مسلمانوں کو کھانا پہنچاتے رہتے۔اس کام میں آپ کے بھتیجے حکیم بن حزام پیش پیش تھے۔اگر چہ ابھی تک انہوں نے اسلام قبول نہ کیا تھا۔ایک دن ابوجہل نے حکیم کو ایک غلام کے ساتھ شعب ابی طالب میں غلہ لے جاتے ہوئے