حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ

by Other Authors

Page 11 of 34

حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ — Page 11

حضرت خدیجتہ الکبری 11 نے فرمایا ” میرے پاس جبرائیل آئے اور کہا، یا رسول اللہ ، خدیجہ رضی اللہ عنھا کو آپ کے رب نے سلام بھیجا ہے، جب وہ آئیں تو انہیں یہ سلام پہنچا دیں۔“ اس حدیث سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کے بلند مقام کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔(16) صلى الله جب نماز فرض ہوئی اور حضرت جبرائیل نے حضور ﷺ کو وضو اور صلى الله نماز کا طریق سکھایا تو حضور یہ سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کے پاس آئے اور انہیں بھی اسی طرح وضو اور نماز کا طریق بتلایا۔پھر دونوں نے وضو کیا اور ا کٹھے نماز پڑھی۔(17) مکہ کے باقی لوگ چونکہ بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے اس لئے جب انہیں آنحضرت عملے کے لائے ہوئے اس نئے دین کا علم ہوا جو ایک خدا کی عبادت سکھاتا تھا تو انہوں نے اس کی مخالفت شروع کر دی اور وہ مسلمانوں کو تنگ کرنے لگے کہ وہ اپنا نیا دین چھوڑ دیں اور دوبارہ سے بتوں کی پوجا شروع کر دیں۔جب بھی وہ کسی مسلمان کو نماز پڑھتے دیکھتے تو اُس کا مذاق اُڑاتے۔آہستہ آہستہ یہ مخالفت شدید ہوتی چلی گئی اور مسلمان قریش کے ڈر سے چھپ چھپ کر نمازیں پڑھنے لگے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کو بھی قریش کی مخالفت کا حال معلوم تھا لیکن انہیں یقین تھا کہ یہ مخالف لوگ