خواب سراب — Page 59
عارضی سرائے ہجرتیں تو ہونی تھیں گھر مرا تھا مٹی کا بارشیں تو ہوئی تھیں بات مختصر سی ہے بات صوفیانہ ہے تم سے کیا چھپانا ہے خواب ہیں جو دنیا کے دل کے یہ دلا سے ہیں چار اشک سجدوں کے یہ مرے اثاثے ہیں بس یہی کہانی تھی بس یہی فسانہ ہے تم سے کیا چھپانا ہے 59