خواب سراب — Page 106
موت اک راہگزر ہے در یار تک ایک ابدی سے شاداب گلزار تک موت سے نہ ڈرو آخری سانس تک مسکرا کر جیو آخری سانس تک زندگی کچھ نہیں ہے بجه امتحاں یاں جو کوشش نہیں ہے تو سب رائیگاں اپنی کوشش کرو آخری سانس تک مسکرا کر جیو آخری سانس تک عشق اور انکساری ہیں وہ کیمیا جس سے مٹی کے سادھو بنے اولیاء دعائیں کرو آخری سانس تک سو مسکرا کر جیو آخری سانس تک ○ 106