کسر صلیب — Page 335
۳۳۵ عیسائی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے صلیب پر جان تو ضرور دی ہے لیکن وہ تین دن تک مرے رہنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو گئے تھے۔اس عقیدہ کے بعض پہلوؤں پر تو گذشتہ ابواب میں تبصرہ ہو چکا ہے اسجگہ اس بات کا ذکر کرنا مقصود ہے کہ مسیحیت کا یہ عقیدہ کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہوئے اور پھر زندہ ہو گئے ایک باطل عقیدہ ہے۔یاد رہے کہ یہ عقیدہ عیسائیت کی جان ہے۔جیسا کہ مندرجہ بالا حوالہ جات سے صاف معلوم ہوتا ہے۔اس ایک عقیدہ کے باطل ثابت ہونے سے سارا مذہب ہی باطل ہو جاتا ہے۔عیسائی محققین نے اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا اور وہ مردوں میں سے جی نہیں اُٹھا تو ہمارا سارا مذہب باطل قرار پاتا ہے۔اس قسم کے متعدد حوالہ جات میں سے چند حوالے لیکن اس غرض سے یہاں درج کرتا ہوں تا اس عقیدہ کی اہمیت واضح ہو جائے۔نیز اس کے بالمقابل اس کی تردید کی اہمیت کا بھی اندازہ ہو سکے۔موجودہ عیسائیت کے اصلی بانی پولوس نے تسلیم کیا ہے کہ :- درو اگر مسیح نہیں جی اٹھا تو ہماری منادی بھی بے فائدہ ہے اور تمہارا ایمان بھی بے فائدہ لے لکھا ہے "اگر مسیح نہیں جی اُٹھا تو تمہارا ایمان ہے فائدہ ہے۔سے این دونوں حوالوں سے مسیح کی صلیبی موت کی اہمیت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔اسی ضمن میں ڈاکٹر نہ و بیبر کا قول بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔اسی مسیح کی صلیبی موت کے عقیدہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :- فاذا كان ايماننا هذا خطاء كانت مسيحيتنا بجملتها باطلة لان البشارة الوحيدة التي بناهى ان المسيح قدمات من اجل خطايانا وقام لاجل تبريرنا " له یعنی اگر صلیبی عقیدہ پر ایمان غلط ہے تو پھر ہماری ساری کی شادی عیسائیت بھی باطل قرار پاتی ہے۔کیونکہ ہمار ے لئے واحد بشارت یہی ہے کہ مسیح ہمار سے گناہوں کی خاطر مصلوب ہوا اور پھر ہماری نجات کی خاطر دوبارہ جی اُٹھا۔The book of Knowledge جو معلومات کی ایک مفید کتاب ہے اس میں ھی اپنی خیالات کا اظہا ر کیا گیا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کا ذکر کر تے ہوئے سکھتا ہے کہ : - کرنتھیوں : له -: - الستر العجيب فى فخر الصليب منك : کرنتھیوں : 215