کشمیر کی کہانی — Page 56
-4 -5 -6 -7 -8 -9 ڈاکٹر شفاعت احمد خاں۔ایم۔ایل سی الہ آباد حاجی سیٹھ عبداللہ ہارون۔ایم۔ایل۔اے کراچی مسٹرایم۔ایچ۔ایس۔سہروردی ایم۔ایل۔اے کلکتہ مولا نا شفیع داؤدی ایم۔ایل۔اے پٹنہ صاحبزادہ مولانا ابوظفر وجیہ الدین کلکتہ ڈاکٹر ضیاء الدین ایم۔ایل۔اے۔میاں جعفر شاہ شاہ آباد پشاور بھی کمیٹی کے ممبر بن گئے اور اس کے بعد نہایت مختصر وقت میں ہندوستان کے ہر صوبہ۔ہر طبقہ۔اور ہر فرقہ کے اکابر نے کشمیر کمیٹی کی ممبری قبول کر کے اسے مسلمانان ہند کی حقیقی نمائندہ جماعت بنا دیا۔مختلف صوبوں کی لیجسلیٹو کونسلوں اور مرکزی لیجسلیٹو اسمبلی کے مسلمان ممبروں کے علاوہ دیوبند کے مشہور فاضل مولانا سید میرک شاہ، اہل حدیث کے لیڈر مولا نا میر محمد ابراہیم سیالکوٹی اور مولانا اسمعیل غزنوی سجادہ نشینوں میں سے خواجہ حسن نظامی اور مولانا ابوالحمد ظفر بنگالی سیاست دانوں میں سے مولانا حسرت موہانی۔مولانا شفیع داؤدی اور ڈاکٹر شفاعت احمد۔کانگرسیوں میں سے ملک برکت علی اور مشیر حسین قد والی تعلیم جدید کے ماہرین میں سے ڈاکٹر ضیاء الدین فلسفیوں اور شاعروں میں سے ڈاکٹر محمد اقبال کشمیر کے دیرینہ خادموں میں سے سید محسن شاہ اور اخبار کے ایڈیٹروں میں سے مولانا غلام رسول مہر۔مولانا عبدالحمید سالک۔مولانا یعقوب خاں۔مولانا مظہر الدین۔مولانا سید حبیب شاہ اور مولانا نور الحق۔غرض ہر طبقہ کے زعماء نے اس کمیٹی میں شامل ہوکر ثابت کر دیا کہ صرف اور صرف یہی ایک کمیٹی ہے جو تمام مسلمانان ہند کی نمائندہ ہے جس پر آل انڈیا مسلم لیگ کا نفرنس۔آل 60