کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 54 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 54

بربریت کے واقعات سے قدرے متذبذب و متزلزل نظر آتے تھے۔اگر وفد چلا جاتا تو ان کے حوصلے یقیناً اور بلند ہو جاتے۔اسی سے مہاراجہ ڈرتا تھا۔لیکن وہ نمائندگان جو شملہ کانفرنس میں شمولیت کے بعد کشمیر پہنچے۔انہوں نے ان کو بتایا کہ ہندوستان کے تمام مسلمان اور پریس آپ لوگوں کے ساتھ ہیں۔اور وہ ہر مشکل مرحلہ پر ہماری امداد کے لئے پہنچیں گے۔اور اس وقت تک دم نہ لیں گے۔جب تک ہمیں بنیادی حقوق نہ دلوالیں۔ان نمائندوں کے پہنچنے پر کام میں تیزی اور نئی زندگی پیدا ہوگئی۔کشمیر کمیٹی کے وفد کو تو اجازت نہ دی گئی۔مگر بعض گروہوں کے وفد کشمیر میں بلوائے گئے۔ان کو شاہی مہمانوں کی طرح رکھا گیا۔کیونکہ ریاست کو یقین تھا کہ وہ اس کے آلہ کا رہنے رہیں گے۔اس کی تفصیل آگے آئے گی۔یہاں صرف ایک مثال ہی پیش کی جاتی ہے۔روز نامہ انقلاب کے نامہ نگار خصوصی نے سری نگر سے اطلاع دی کہ:۔اختر علی ابن ظفر علی خان مالک زمیندار دو ہزار کا ایک چیک امپرئیل بنگ سری نگر سے بھنانے کے بعد لاہور روانہ ہو گیا۔اور ریاست کے حقوق میں پراپیگنڈہ کرنے کے لئے وعدہ کر گیا - 1 (1 انقلاب لا ہو ر ا گست ۶۳۱) یہ خبر تمام اخبارات میں اسی وقت شائع ہوگئی۔چنانچہ مرتاض فیروز پوری نے اس کے متعلق ایک نظم میں کہا:۔دشمنان حق نے کرلی سلب آزادی تری اپنی نادانی بھی دیکھ اور ان کی عیاری بھی دیکھ 58