کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 307 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 307

کرنے کی ہدایات دی گئیں جس کے لئے ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں برگیڈیئر کے۔ایم۔شیخ نے کمانڈر انچیف کا پیغام پڑھ کر سنایا اور ۹۱۷ مجاہدوں میں تمغات تقسیم کئے۔کمانڈر انچیف نے خود اس تقریب میں آنا تھا لیکن انہیں بیرون ملک دورہ پر جانا پڑا تھا۔کمانڈر انچیف نے اپنے پیغام میں نہایت شاندارالفاظ میں اس اطمینان کا اظہار کیا کہ فرقان فورس کے سب کے سب نوجوان خدمت پاکستان کے جذبہ سے سرشار تھے۔اور انہوں نے اپنی قربانیوں کے بدلے میں جس کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو رضا کا رانہ پیش کیا۔کسی قسم کی شہرت و نمود کی توقع نہیں کی۔اس پیغام میں یہ اعتراف بھی کیا گیا تھا کہ جو محاذ جنگ فرقان بٹالین کے سپرد کیا گیا تھا۔اُس پر دشمن نے فضا اور زمین سے ہر طرح کے شدید سے شدید حملے کئے۔لیکن انہوں نے ہر ایسے حملے کا ثابت قدمی اور اولوالعزمی سے مقابلہ کیا اور ایک انچ زمین بھی ( باوجود دشمن کی بے پناہ یورشوں کے ) اپنے قبضہ سے جانے نہیں دی۔لکھا: آپ کی بٹالین خاص رضا کار بٹالین تھی جس میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ان میں کسان بھی تھے۔مزدور پیشہ بھی کاروباری بھی اور نوجوان طلبہ و اساتذہ بھی وہ سب کے سب خدمت پاکستان کے جذبہ سے سرشار تھے۔آپ نے اس قربانی کے بدلے میں جس کے لئے آپ میں سے ہر ایک نے اپنے آپ کو بخوشی پیش کیا کسی قسم کے معاوضہ یا شہرت و نمود کی توقع نہ کی۔آپ جس جوش اور ولولے کے ساتھ آئے اور اپنے فرائض کی بجا آوری کے لئے تربیت حاصل کرنے میں جس ہمہ گیر اشتیاق کا اظہار کیا اس سے ہم سب بہت متاثر ہوئے۔ان 311