کشمیر کی کہانی — Page 158
نمک پاشی کا کام کیا ہے۔اور ڈوگروں کو مسلمانوں پر ظلم و ستم کرنے کی جرات دلائی ہے۔رپورٹ کا شخص جو اخبارات میں شائع ہوا ہے۔اس سے ایسے لوگوں کا اعتماد بھی متزلزل ہو گیا ہے۔جو برطانوی حکومت کے ہاتھ سے انصاف و عدل کی امید لگائے بیٹھے تھے۔اسی اثناء میں کمیٹی کے مطالبہ پر ریاست کی طرف سے رپورٹ کی ایک نقل صدر کمیٹی کو مہیا کر دی گئی۔آپ نے ۵/ مارچ کو دہلی میں پھر اجلاس بلایا جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ چودھری محمد ظفر اللہ خاں کی سرگردگی میں ایک سب کمیٹی رپورٹ کا بنظر غائر مطالعہ کرنے کے بعد کمیٹی میں اپنے تاثرات پیش کرے۔رپورٹ پر تبصرہ اُسی روز جناب صدر صاحب نے ایک بیان اخبارات میں اشاعت کی غرض سے دیا۔جس میں فرمایا:۔پھر فرمایا:۔اب مجھے اس کی ایک کاپی ملی ہے۔جس کے مطالعہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اخبارات میں جو اس کا خلاصہ شائع ہوا ہے۔وہ سخت گمراہ کن اور اصل حالات کے خلاف ہے۔“ رپورٹ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس کا جو خلاصہ شائع کیا ہے۔وہ مسٹر مڈلٹن کے ساتھ صریح نا انصافی ہے۔اگر چہ مسلمانوں کے ساتھ پورا پورا انصاف بھی نہیں کیا گیا۔لیکن یہ امر واضح رہے کہ رپورٹ ایسی بُری نہیں۔جیسا کہ خلاصہ سے 162