کشمیر کی کہانی — Page 148
روز دفتر کھلنے سے پہلے وہ اسے واپس کر دیں گے۔راقم الحروف نے اسی وقت اُسے ٹائپ کرنا شروع کر دیا۔ساری رات کام کرتا رہا۔دوسرا دن ( جو اتفاقاً اتوار کا دن تھا ) کام کیا۔اگلی رات نصف شب کے قریب میں ساری فائل کی چار نقلیں ٹائپ کر چکا تھا۔جو بعد میں بہت مفید ثابت ہوئیں کیونکہ مسل میں جو نقائص رہ گئے تھے اس ریکارڈ سے ہمیں ان کا علم ہو گیا۔اور مسلم نمائندگان کو ضروری مواد مہیا کر کے اُن کے ہاتھ مضبوط کر دیے گئے۔اس۲۴ گھنٹے کے عرصہ میں آرام اور نمازوں کا وقت غالباً چار گھنٹے سے زیادہ نہ ہوتا ہوگا نیند سے بچنے کے لیے کھانے سے پر ہیز کیا۔اور صرف قہوہ استعمال کیا۔اب میں خود حیران ہوتا ہوں کہ ان دنوں اتنا کام کرنے پر بھی خاص کوفت کیوں محسوس نہ ہوتی تھی۔گلینسی کمیشن وسط جنوری ۳۲ ء تک سری نگر میں رہا۔اس کے بعد جموں آگیا جہاں ۲۲ / مارچ ۳۲ء کو کمیشن نے مہاراجہ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کر دی تینوں غیر سرکاری ارکان نے رپورٹ کے ساتھ اپنے اختلافی نوٹ شائع کئے۔ایک پریم ناتھ بزاز کی طرف سے تھا۔دوسرا خواجہ غلام احمد عشائی اور چودھری غلام عباس کی طرف سے مشترکہ تھا اور تیسرا صرف چودھری غلام عباس کی طرف سے جو انہیں ایک ہمدری کشمیر نے تیار کر کے دیا تھا۔مہاراجہ کے احکام اس رپورٹ پر مہاراجہ نے ۱۰ / اپریل ۳۲ ء کو احکام جاری کئے۔اس وقت مسٹرای۔جے۔ڈی کالون وزیراعظم مقرر ہو چکے تھے۔مہاراجہ نے کمیشن کی سفارشات کومنظور کرتے ہوئے اُن پر حتی الامکان جلد سے جلد عمل کرنے کی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کر دی۔اس طرح آئینی جدوجہد کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی مخلصانہ مساعی کے نتیجہ میں اہالیان ریاست کو جو جو حقوق ملے اُن کا مختصر ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔کیونکہ یہ 152