کر نہ کر — Page 40
40 ا تو یہاں کی زندگی کو عارضی سمجھ اور آخرت یا تو اذان سنتے ہی نماز کی تیاری کر۔کی زندگی کو اپنا مستقل مسکن۔اسلئے وہاں تو عشاء کی نماز پڑھے بغیر کبھی نہ سو۔کے لئے جو سامان بھی ہو سکے تیا کر۔تو کسی زندہ جان کو آگ میں نہ جلا۔تو جب بھی اپنی دُنیا کے لئے دُعا مانگے تو ہی تو محض اسباب پر کبھی بھروسہ نہ کر۔ساتھ ہی آخرت کے لئے بھی دُعا ملا تو اپنی ساری حاجتیں صرف خدا سے مانگ۔مانگ۔تو سوائے عقلمند اور صالح لوگوں کے کسی کو یا تو خدا کے سوا کسی سے دُعا نہ مانگ۔تو خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کر۔اپنی دلی دوست نہ بنا۔تو جماعت میں تفرقہ کا موجب نہ بن۔تو اپنے خدا کو بے مثل اور بے مانند یقین حمد تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد کر کے اُس کر۔سے اپنی محبت بڑھا۔ا تو پانی بسم اللہ کہہ کر پی اور پی کر الحمد للہ کے خلاف ہو۔کہہ۔تو اس رواج پر نہ چل جو شریعت کے منشاء لاتو دیو، بھوت پریت ، چڑیل اور جادو تو نمازیوں کے آگے سے نہ گزر۔تیرے ہر عمل میں اخلاص کا رنگ ہونا ٹونے پر اعتقاد نہ رکھ۔چاہئے۔اے خاتون ! تیرے حسن سے زیادہ یہ تو حتی الوسع کسی کے لئے بددعا نہ کر۔تیرے اخلاق اور تیرے اخلاق سے ہو تو جب نماز کے لئے مسجد میں حاضر ہو تو۔زیادہ تیرا دین خدا تعالیٰ کے نزدیک مرتبہ راستے میں اتنا سوچ لیا کر کہ تو کن کن نیکیوں کا تحفہ خدا کے لئے لے جا رہا ا تو نیکی کی تعریف یاد کر لے یعنی ” خدا کے رکھتا ہے۔تو اپنے والدین کے ساتھ سختی نہ کر بلکہ اُن ہے۔کو اُف تک بھی نہ کہہ۔