کر نہ کر

by Other Authors

Page 7 of 66

کر نہ کر — Page 7

676 ا -۲- تہذیب و تمدن اسلامی (۱۱۷-۳۵۸) تو مہذب اور باتمیز انسان بننے کی کوشش سے نہ مٹا۔کر۔جب تو کسی گردآلو دکپڑے کو جھاڑنے لگے تو ا تو ملاقات کے وقت سلام کرنے میں لوگوں سے پرے لے جا کر جھاڑ۔سبقت کر۔حمد تو دوستوں سے مصافحہ کیا کر۔اے لڑکے! تو حتی الوسع غیر مردوں یا لڑکوں کے ساتھ ایک بستر میں نہ ہو۔ا تو اپنے مکان اور کمرے کی اشیاء کو لیا تو اُجلے فرش پر میلی جو تیوں سمیت نہ پھر۔با ترتیب اور سلیقہ سے رکھا کر۔تو ہمیشہ وقت پر سکول ، کالج ، دفتر یا تو اتنا غل و شور برپا نہ کر کہ گھر والوں اور ملازمت پر جایا کر۔ہمسائیوں کو ناگوار ہو۔تو اس طرح سے نہ کھا کہ چپڑ چپڑ کی مکروہ ا تو اپنی جوتی زمین پر گھسیٹ کر یا رگڑ کر نہ آواز لوگوں کو سُنائی دے۔چلا کر۔حمد تو اپنے کپڑوں سے نہیں بلکہ رُومال سے ا تو سیٹی بجانے کی عادت نہ ڈال اور لڑکیوں ناک صاف کیا کر۔کے لئے تو یہ عادت نہایت معیوب ہے۔) * آے خاتون! تو کنگھی کے بعد اپنے اپنا پاجامہ اور تہ بند ناف سے اُوپر اُترے ہوئے بالوں کا چھا جاوبے جانہ پھینکتی پھر۔باندھا کر۔کے طالب علم ! تو پنسل یا ہولڈر کو نہ چبایا ہی تو بازار میں چلتے چلتے کوئی چیز نہ کھا۔تو لکیر کا فقیر نہ بن۔تو غریبوں کی مجلس کا لطف بھی اُٹھایا کر۔تو مجلس میں ڈکار مارنے ، جمائیاں لینے کے طالب علم ! تو سلیٹ پر لکھا ہوا تھوک اُونگھنے اور ریح خارج کرنے سے پر ہیز