کر نہ کر

by Other Authors

Page 3 of 66

کر نہ کر — Page 3

میں پڑیں۔تو اپنے لباس کو پیشاب اور گندگی کی و جب کسی مجمع میں جائے تو خوشبو لگا کر جب لقمہ تیرے منہ میں ہو تو کسی سے چھینٹوں سے بچا۔بات نہ کر۔اے اُستاد! تو کالی کھانسی، کھسرا، چکن جایا کر۔پاکس اور کھجلی والے طالب علموں کو یہ تو ہمیشہ اپنی جوتی کو پہنتے وقت جھاڑ لیا کر تا صحت مدرسہ میں نہ آنے دے۔تو اپنے کپڑے اُجلے اور صاف رکھ۔تو کسی بھی نشہ کی عادت نہ ڈال۔تو اپنی جوتی دھوپ میں نہ چھوڑ۔ورنہ وہ کے طالب علم ! اگر تجھے سکول کے بورڈ پر سکڑ کر تنگ ہو جائے گی۔لکھا ہوا صاف نظر نہ آتا ہو تو عینکوں تو رو ہوں یعنی مگروں کے مریض کا والے ڈاکٹر سے مشورہ کر۔رومال اور تولیہ استعمال نہ کر۔تو پکار پکار کر پڑھنے کی عادت نہ تو گرمیوں کی دھوپ میں ننگے سر نہ پھر۔ڈال نہیں تو تیرا دماغ خالی اور لوگوں کی تو بد بودار چیزیں کھا کر مجلسوں میں نہ جایا کے کان بہرے ہو جائیں گے۔کر۔مثلاً کچی پیاز لہسن، مولی اور ہینگ تو کان میں پنسل ، ہولڈر یا تنکا وغیرہ وغیرہ۔کھجانے یا میل نکالنے کے لئے نہ تو کھانا کھانے سے پہلے اپنے ہاتھ دھو لیا ڈال۔کر۔اگر تجھے مطالعہ کے بعد اکثر سر کا درد ہو یا تو کھانے کے بعد پھر ہاتھ دھو۔گلی کر، اور منہ صاف کر۔جاتا ہو تو عینک کا فکر کر۔جو چیزیں بازاری پھلوں اور ترکاریوں تو بیماری میں بد پرہیزی نہ کر۔تا کہ جلدی میں سے دھوئی جاسکتی ہوں تو اُن کو دھو کر تندرست ہو سکے۔کھایا کر۔ہا تو ہمیشہ دائیں ہاتھ سے کھا۔اور اپنے