کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 279

کرامات الصادقین — Page 262

كرامات الصادقين ۲۶۲ اُردو ترجمه قد صاغه الحَبرُ الذي أنواره تَدَعُ الليال إذا دَجين شموسا اس کو ایسے جلیل القدر عالم نے لکھا ہے کہ جس کے انوارسیاہ تاریک راتوں کو سورج بنا دیتے ہیں۔لِلَّهِ دَر القاديان فإنّها كالشام حيث أقام فيها عيسى خوشا نصیب اے قادیان! کیونکہ تو ارض شام کی طرح ہے جہاں عیسی مبعوث ہوئے۔بلد بها غيثُ المواهب قد هَمَى وتقدست أرجاءها تقديسا یہ ایسی بستی ہے جس میں عنایات الہی کی بارش برسی اور اس کا ہر گوشہ بہت مقدس ہو گیا۔فكأنما هي إيلياء إذ حوث جبلاً حباه ربُّه الناموسا گویا کہ یہ بیت المقدس ہے کیونکہ اس نے اُس پہاڑ کو اپنے اندر لے لیا ہے جس کو اس کے رب نے وحی سے نوازا۔قَرُم تَقَاصَرَ عَن ثَناء خِصَاله قوه الزمان ولا يرى تدليسا آپ ایسے عظیم الشان سردار ہیں جن کی خوبیوں کے بیان سے زمانے کی زبان قاصر ہے اور اس تعریف میں کوئی عیب نہیں۔بحر تلاطم بالمعارف موجه شَهُم علا رُتب الكمال عروسا ایسا سمندر ہے جس کی موجیں معارف سے تلاطم خیز ہیں اور ایسا اعلیٰ اخلاق والا بہادر ہے جو کمال کے رتبوں پر دلہے کی طرح فائز ہے۔۳۵۴