کرامات الصادقین — Page 225
كرامات الصادقين ۲۲۵ اُردو ترجمہ أهل المعرفة فأوّلُ ما عرفه سب سے پہلی چیز جس نے اس کی معرفت کانت ربوبیته بکمال دلائی وہ کمال حکمت وقدرت سے اس کی الحكمة والقدرة۔ثم ذكر صفت ربوبیت کا اظہار تھا۔اس کے بعد اللہ الله في الفاتحة رحمانية نے سورہ فاتحہ میں رحمانیت کا ذکر کیا اور وبعدها رحيمية وقفاها پھر اس کے بعد رحیمیت کا اور پھر اس کے مالكية فوضعها طباقًا بعد مالكیت کا۔پس اس نے ان صفات کو وطبقها إشراقا وجعل درجہ وار رکھا اور انہیں روشن کرنے کے لئے بعضها فوق بعض وضعًا ترتیب دی اور ان کے طبعی مدارج کے لحاظ كما كان مدارجها طبعا سے انہیں وضعی طور پر ایک دوسرے پر فوقیت وفيه آيات للمتدبرين۔وعلم دی اور اس میں تدبر کرنے والوں کے لئے الله عباده أن يقدموا هذه بہت سے نشان ہیں اور اللہ نے اپنے بندوں کو المحامد بين يديه ويسألوا یه تعلیم دی کہ وہ پہلے ان محامد کو اس کے حضور الهداية والاستقامة بعد پیش کریں اور اس کی ثناء کرنے کے بعد اس الثناء عليه لتكون هذه الصفات سے ہدایت اور استقامت طلب کریں تا کہ یہ وتصورها سببًا لفور عیون صفات اور ان کا تصور روحانیت کے چشموں کے الروحانية ووسيلة للحضور زور سے پھٹنے کا سبب اور حضور قلب کا ذریعہ اور والذوق والمواجيد التعبدية ذوق و شوق اور عبادت میں سوز و گداز اور لذت وليستجاب الدعاء بهذا پیدا کرنے کا وسیلہ بنے۔اور تا اس حضور قلب کی الحضور ويكون موجبا وجہ سے دعا قبول کی جائے اور طرح طرح کے لأنواع السرور والنور سرور اور نور کا اور معاصی اور فسق و فجور سے والبعد عن المعاصي والفجور دوری کا موجب ہو۔کیونکہ جب کوئی بندہ اس لأن العبد إذا عرف أنه يعبد بات کی معرفت حاصل کر لیتا ہے کہ وہ ایک ۳۱۷