کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 279

کرامات الصادقین — Page 18

كرامات الصادقين ۱۸ رہا ہے اور آیت موصوفہ میں سیدھی راہ سے وہی راہ مراد ہے کہ جو راہ انسان کی فطرت سے نہایت نزدیک ہے یعنی جن کمالات کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے اُن تمام کمالات کی راہ اُس کو دکھلا دینا اور وہ راہیں اُسکے لئے میسر اور آسان کر دینا جن کے حصول کیلئے اسکی فطرت میں استعداد رکھی گئی ہےاور لفظ أَقْوَمُ سے آیت يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَهُ ے میں یہی راستی مراد ہے۔پھر بعد اسکے فرمایا کہ قرآن کریم تمام جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے۔اور یہ قول بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس میں تمام اقسام حکمت الہی کے موجود ہیں۔کیونکہ جو کتاب خود ناقص اور بعض معارف سے خالی ہو وہ عام طور پر الہیات کے مخطیوں اور مصیبوں کیلئے قاضی اور حکم نہیں ٹھہر سکتی بلکہ اُسی وقت حکم ٹھہرے گی کہ جب جامع جمیع علوم حکمیہ ہوگی۔اور پھر فرمایا کہ یہ قرآن تمام شکوک سے پاک ہے اور اسکی تعلیمات میں شک اور شبہ کو راہ نہیں یعنی علوم یقینیہ سے پر ہے۔اور پھر فرمایا کہ یہ قرآن وہ حکمت ہے جو اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور تمام الہی کتابوں پر حاوی ہے اور تمام معارف دینیہ کا اسمیں بیان موجود ہے وہ ہدایت کرتا ہے اور ہدایت پر دلائل لاتا ہے اور پھر حق کو باطل سے جدا کر کے دکھلا دیتا ہے اور وہ پر ہیز گاروں کو انکی نیک استعداد میں جو اُن میں موجود ہیں یاد دلا دیتا ہے اور اسکی تعلیم یقین کے مرتبہ پر ہے اور وہ غیب گوئی میں بخیل نہیں ہے یعنی اُس میں امور غیبیہ بہت بھرے ہوئے ہیں اور پھر صرف اتنا نہیں کہ اپنے اندر ہی امور غیبیہ رکھتا ہے بلکہ اس کا سچا پیر و بھی منجانب اللہ الہام پا کر امور غیبیہ کو پا سکتا ہے اور یہ فیض اسی پاک کتاب کا ہے جو بخیل نہیں ہے۔اور دوسری کتا ہیں اگر چہ منجانب اللہ بھی ہوں مگر اب وہ بخیل کا ہی حکم رکھتی ہیں جیسے انجیل اور توریت کہ اب ان کی پیروی کرنے والا کوئی نور حاصل نہیں کر سکتا بلکہ انجیل تو عیسائیوں سے ایک ٹھٹھا کر رہی ہے کیونکہ جو عیسائی ایمانداروں کی علامتیں انجیل نے ٹھہرائی ہیں کہ وہ نا قابل علاج بیماروں یعنی مادر زاد اندھوں اور مجزوموں اور لنگڑوں اور بہروں کو اچھا کریں گے اور پہاڑوں کو حرکت دے دینگے اور زہر کھانے سے نہیں مرینگے یہ علامتیں عیسائیوں میں نہیں پائی جاتیں بلکہ حضرت عیسی نے یہ بات کہ کر کہ اگر ا بنی اسرائیل: ۱۰ 11۔