کرامات الصادقین — Page 183
كرامات الصادقين ۱۸۳ اُردو ترجمه فيكون من الفائزين۔ہو جاتی ہے اور وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔وفى السورة إشارة إلى نیز اس سورۃ میں اس طرف بھی اشارہ ہے أن صفات اللہ تعالیٰ مؤثرة کہ اللہ تعالیٰ کی صفات عین اس کے مطابق اپنا بقدر إيمان العبد بها وإذا اثر دکھاتی ہیں جتنا بندے کو ان (صفات ) پر توجة العارف إلى صفة من ایمان ہو اور جب کوئی عارف اللہ تعالیٰ کی صفات الله تعالى وأبصره صفات میں سے کسی صفت کی جانب متوجہ ہوتا ببصر روحه و آمن ثم آمن ہے اور اُسے اپنی روحانی نگاہ سے دیکھ لیتا ہے ثم آمن حتـى فـني في إيمانه اور اس پر ایمان لاتا ، پھر ایمان لاتا اور پھر اتنا فتدخل روحانية هذه الصفة ايمان لاتا ہے کہ وہ اپنے ایمان میں فنا ہو جاتا في قلبه وتأخذه منه فیری ہے تو اس صفت کی روحانی تا شیر اس کے دل میں السالک باله فارغا من داخل ہو جاتی ہے اور اس پر قبضہ کر لیتی ہے تب غير الرحمن وقلبه مطمئنا سالک یہ دیکھتا ہے کہ اس کا سینہ غیر اللہ کی محبت بالإيمان وعيشه حلوا سے خالی ہے اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ނ بذكر المنان ويكون من ہے اور اس کی زندگی محسن خدا کے ذکر المستبشرين۔فتتجلی تلک شیریں بن گئی ہے۔تو وہ خوش و خرم ہو جاتا ہے۔الصفة له وتستوى عليه پھر اس پر اس صفت کی مزید تجلی ہوتی ہے اور وہ متى يكون قلـب هـذا العبد اس پر مستولی ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ اس عرش هذه الصفة وينصبغ بندے کا دل اس صفت کا عرش بن جاتا ہے اور القلب بصبغها بعد ذهاب نفسانیت کا رنگ بالکل ڈھل جانے اور اس کے الصبغ النفسانية وبعد فانی فی اللہ ہو جانے کے بعد اس کا دل اس كونه من الفانين۔صفت کے رنگ میں خوب رنگین ہو جاتا ہے۔فإن قلت من أين علمت اور اگر تو یہ کہے کہ تجھے کہاں سے یہ معلوم ہوا ۲۷۵