کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 279

کرامات الصادقین — Page 165

كرامات الصادقين ۱۶۵ اُردو ترجمه الأولين والآخرين۔فلا شک آن عمده ادبی باتیں بے نظیر فضیلت کی حامل ہیں اور مُلَحَ أدبها بارعة وقَدَمَها على اس كا قدم علوم کے پہاڑوں سے بھی اونچا ہے اور أعلام العلوم فارعة وهى يُصْبِى وہ عارفوں کے دلوں کو موہ لیتی ہے۔اب تو نے ان قلوب العارفين۔وقد علمت پانچ سمندروں کی ترتیب کو معلوم کر لیا ہے۔جو ایک ترتيب خمسة أبحر التي تجرى دوسرے کے پیچھے جاری ہیں۔پس تو اسے قبول کر بعضها تلو بعض فتسلمه و کن اور شکر گزاروں میں سے ہوجا اور اگر تو فیض من الشاكرين۔وأما ترتیب یافتگان میں سے ہے تو فیض حاصل کرنے والے المغترفات فتعرفه بترتیب جملوں کی ترتیب کو تو ان کے سمندروں کی ترتیب أبحرها إن كنت من المغترفين۔سے پہچان لے گا۔إيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ إيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ قدم الله عز وجل قوله إِيَّاكَ خدائے عزوجل نے جملہ ايَّاكَ نَعْبُدُ کو جملہ نَعْبُدُ على قوله إِيَّاكَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے پہلے رکھا ہے اور اس میں نَسْتَعِينُ إشارةً إلى تفضلاته (بندہ کے ) توفیق مانگنے سے بھی پہلے اس الرحمانية من قبل الاستعانة ذاتِ باری) کی (صفت) رحمانیت کے فیوض فكأن العبد يشكر ربه کی طرف اشارہ ہے گویا کہ بندہ اپنے رب کا شکر ادا ويقول يا رب إني أشكرک کرتا ہے اور کہتا ہے۔اے میرے پروردگار میں عـلـی نـعـمـائك التي أعطيتنی تیری ان نعمتوں پر تیرا شکر ادا کرتا ہوں جو تُو نے من قبل دعائى و مسألتی میری دعا، میری درخواست، میرے عمل، میری و عملی و جهدی و استعانتی کوشش اور میری استعانت سے پیشتر اپنی ربوبیت بالربوبية والرحمانية التي اور رحمانیت کے فیض سے جو سائلین کے سوالوں پر سبقت سُؤل السائلين ثم بھی سبقت رکھتی ہیں ، تو نے مجھے عطا کر رکھی ہیں۔۷۸ أطلب منك قوة وصلاحًا | پھر میں تجھ سے ہی (ہرقسم کی ) قوت، راستی ، حمد غالباً سہو کا تب ہے۔" تضبئی “ ہونا چاہیے۔(ناشر) ۲۵۷