کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 279

کرامات الصادقین — Page 155

كرامات الصادقين اُردو ترجمه على الله تعالی خیال فاسد عدل حقیقی واجب ٹھہرانا ایک فاسد خیال اور ومتاع كاسد لا يقبله إلا من کھوئی جنس ہے۔جسے جاہلوں کے سوا اور كان من الجاهلين۔ومن هنا کوئی قبول نہیں کر سکتا۔اس ( بحث ) سے نجد أن بناء عقيدة الكفارة ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کفارہ کے عقیدہ کی بنیاد على عدل الله بناء فاسد علی خدا تعالیٰ کے عدل پر رکھنا بناء فاسد علی الفاسد فاسد فتدبر فيه فإنه يكفيك ہے۔پس اس بارہ میں خوب غور کرو کیونکہ اگر تم لكسر صليب النصارى إن كنت مناظرین اسلام میں سے ہو تو نصاری کی صلیب کو من المناظرين۔واسم هذه الصفة توڑنے کے لئے یہی چیز تمہارے لئے کافی ہے۔في كتاب الله تعالى رحيمية كما خدا تعالیٰ کی کتاب میں اس صفت کا نام رحیمیت قال الله تعالی فی کتابه العزیز ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا وقال میں فرمایا ہے۔وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا ل وَاللهُ غَفُوْرٌ رَّحِيمٌ فهذا اور پھر فرمایا۔وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔پس الفيضان لا يتوجه إلا إلى يه فيضان صرف اس کے مستحق کی طرف ہی رُخ المستحق ولا يطلب إلا عامِلا کرتا ہے اور صرف عمل کرنے والوں کا ہی متلاشی وهذا هو الفرق بين الرحمانية ہے۔رحمانیت اور رحیمیت میں یہی فرق ہے اور والرحيميّة والقرآن مملو من قرآن کریم اس فرق کی مثالوں سے بھرا پڑا نظائره ولكن كفاك هذا القدر ہے۔لیکن اس جگہ اتنا بیان ہی کافی ہے اگر تم عقلمندوں میں سے ہو۔إن كنت من العاقلين۔۔القسم الرابع من الفيضان فیضان کی چوتھی قسم وہ فیضان ہے جسے ہم (۷۴) فيضان نسمّيه فيضانًا أخص فيضانِ اَخَصّ يا مالكیت کے مظہر نام کے نام ے اور وہ مومنوں پر بار بار رحم کرنے والا ہے۔( الاحزاب : ۴۴) اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔(البقرة : ۲۱۹) ۲۴۷