کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم)

by Other Authors

Page 10 of 59

کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم) — Page 10

14 13 سنت اور حدیث سنت اور حدیث کے مقام سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام فرماتے ہیں:۔دوسرا ذریعہ ہدایت کا جو مسلمانوں کو دیا گیا ہے سنت ہے یعنی آنحضرت علی کی عملی کا رروائیاں جو آپ ﷺ نے قرآن شریف کے احکام کی تشریح کے لئے کر کے دکھلائیں مثلا قرآن شریف میں بظا ہر نظر پنجگانہ نمازوں کی رکعات معلوم نہیں ہوتیں کہ صبح کس قدر اور دوسرے وقتوں میں کس کس تعداد پر لیکن سنت نے سب کچھ کھول دیا ہے۔یہ دھوکہ نہ لگے کہ سنت اور حدیث ایک چیز ہے۔کیونکہ حدیث تو سوڈیڑھ سو برس کے بعد جمع کی گئی مگر سنت کا قرآن شریف کے ساتھ ہی وجود تھا۔مسلمانوں پر قرآن شریف کے بعد بڑا احسان سنت کا ہے۔خدا اور رسول کی ذمہ داری کا فرض صرف دوامر تھے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ قرآن کو نازل کر کے مخلوقات کو بذریعہ اپنے قول کے اپنے منشاء سے اطلاع دے اور رسول اللہ ﷺ کا یہ فرض تھا کہ خدا کے کلام کو عملی طور پر دکھلا کر بخوبی لوگوں کو سمجھا دیں۔پس رسول اللہ ﷺ نے وہ گفتنی با تیں کر دنی کے پیرا یہ میں دکھلا دیں۔اور اپنی سنت یعنی عملی کارروائی سے معظلات و مشکلات مسائل کو حل کر دیا۔۔۔تیرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے کیونکہ بہت سے اسلام کے تاریخی اور اخلاقی اور فقہ کے امور کو حدیثیں کھول کر بیان کرتی ہیں اور نیز بڑا فائدہ حدیث کا یہ ہے کہ وہ قرآن کی خادم اور سنت کی خادم ہے۔قرآن خدا کا قول ہے اور سنت رسول اللہ کا فعل اور حدیث سنت کے لئے ایک تائیدی گواہ ہے۔“ کشتی نوح صفحہ 57 روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 61) حدیث اور سنت میں فرق حدیث: حدیث تو آنحضرت ﷺ کے ان افعال و اقوال کا نام ہے جو راویوں کی زبانی روایت کے ذریعہ لوگوں سے جمع کر کے کتابی شکل میں مرتب کر لئے گئے۔سنت : سنت کسی لفظی روایت کا نام نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کے اعمال سے جو بات ثابت ہو وہ سنت ہے۔ہیں حدیثیں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص میری امت کی اصلاح کے لئے چالیس حدیثیں یاد کرے۔اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن فقیہ ہونے کی حالت میں اٹھائے گا اور میں اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے حق میں گواہی دوں گا۔1 - اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْبِشِقِّ جہنم کے عذاب سے بچو چاہے کھجور کا ٹکڑا تَمْرَةٍ دیگر۔2 - مَا قَلَّ وكَفى خَيْرٌ مِّمَّا تھوڑا مال جو ضرورت پوری کرنے والا ہو زیادہ بابرکت ہے اس مال سے جو زیادہ ہومگر خدا كَثُرَ وَالْهي سے غافل کر دے 3- الرَّاجِعُ فِي هِبَتِ اپنی دی ہوئی چیز واپس لینے والا اس شخص کی كالرَّاجِع فِي قَيْنِه مانند ہے جو اپنی قے چاٹ لے۔4 - اَلْبَلَاءُ مُؤَكَّلٌ بِالْمَنْطِقِ بغیر سوچے سمجھے بولنے کی وجہ سے تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔5 - لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمُ حَتَّی تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ میں محمد ﷺ ) اس کے ماں باپ اولا داور وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ سب لوگوں سے زیادہ اسے محبوب نہ ہوں۔www۔alislam۔org