کامیابی کی راہیں (حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 24 of 41

کامیابی کی راہیں (حصہ اوّل) — Page 24

37 36 ایمان کے چھ ارکان ہر مسلمان کا چھ باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔انہیں ایمان کے چھ ارکان بھی کہا جاتا ہے اور یہی اسلامی عقائد ہیں۔اسلامی اعمال ( پنج ارکانِ اسلام ) آپ پہلی کتاب میں پڑھ چکے ہیں۔اب ارکانِ ایمان ترتیب سے بیان کئے جاتے ہیں انہیں اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں۔1 - اللہ تعالٰی اللہ وہ ذات ہے جس نے زمین و آسمان کی ہر چیز بغیر کسی سامان کے اپنی قدرت سے بنائی ہے۔وہ تمام دنیا کا حاکم سب کا بادشاہ اور ہر چیز کا مالک ہے وہ چھوٹی بڑی بات کی خبر رکھتا ہے کوئی کام اس کیلئے مشکل نہیں۔بادشاہی ہے تری ارض و سما دونوں میں حکم چلتا ہے ہر اک ذرہ پہ ہر آں تیرا اللہ تعالیٰ واحد اور لازوال ہے۔ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔اس کے کاموں میں نہ کوئی اس کا ساجھی ہے نہ ساتھی۔نہ کوئی اس کا بیٹا ہے نہ بیوی نہ باپ نہ بھائی نہ اسے ان کی ضرورت ہے۔اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔نہ بیمار ہوتا ہے نہ تھکتا ہے۔وہ کسی کا محتاج نہیں۔سب اس کے محتاج ہیں۔مختصر یہ کہ سب خوبیاں اس میں پائی جاتی ہیں۔مگر کوئی نقص یا عیب اس میں نہیں ہے۔واحد ہے لا شریک ہے اور لازوال ہے موت کا شکار ہیں اس کو فنا نہیں اللہ اس کا ذاتی نام ہے اس کے اور بھی کئی نام ہیں لیکن وہ سب صفاتی کہلاتے ہیں۔یعنی ان سے اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی صفت ظاہر ہوتی ہے۔مثلاً www۔alislam۔org 1 - رَبُّ الْعَالَمِين : اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کی ہر چیز بنانے اور پرورش کرنے والا اور ہر شے کو درجہ بدرجہ بڑھانے اور ترقی دینے والا ہے۔2 - رحمن: اللہ تعالیٰ بڑا رحم کرنے والا اور ہمارے کسی کام کے بغیر ہم پر مہربانی کرنے والا ہے۔مثلاً ہمارے لئے سورج چانڈ پانی ہوا وغیرہ پیدا کئے۔3 - رَحِیم : اللہ تعالیٰ نہایت مہربان ہماری کوشش اور محنت کا نتیجہ دینے والا ہے۔مثلاً جو طالبعلم محنت سے پڑھتا ہے اس کو وہ پاس کر دیتا ہے۔4- ملِكِ يَوْمِ الدِّين : اللہ تعالیٰ جزا سزا کے دن کا مالک ہے یعنی وہ اچھے کام کرنے والوں کو انعام اور برے کام کرنے والوں کو سزا دے گا۔لیکن اگر وہ چاہے تو کسی کی سزا معاف بھی کر دے اور کسی کو انعام اس کی محنت سے زیادہ بھی دے دے۔5 - عليم : اللہ تعالیٰ کو زمین اور آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا علم ہے اور اسے دلوں کا حال بھی معلوم ہے۔ہمارا خدا ہماری دعاؤں کو سنتا اور قبول فرماتا ہے مگر وہ ہمیں آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔کیونکہ وہ ایسا نور ہے جس کا نہ کوئی جسم ہے نہ مادی شکل۔البتہ ہم اس کے کاموں سے اسے پہچان سکتے ہیں۔جیسا کہ ہم ہوا کو دیکھ تو نہیں سکتے لیکن جب وہ چلتی ہے تو ہمارے بدن اسے محسوس کرتے ہیں اور ہم فوراً کہتے ہیں کہ ہوا چل رہی ہے۔ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے تیرے دیدار کا 2۔فرشتے تمام انسان اور چرند پرند خدا تعالیٰ کی جسمانی مخلوق ہیں۔اسی طرح فرشتے اللہ تعالیٰ کی روحانی مخلوق اور روحانی فوج ہیں۔جو گناہ یا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے۔وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں لگے رہتے ہیں۔فرشتوں کے ذمے بہت سے