کلید دعوت — Page 194
مضمون حوالہ ۱۴ پھاڑنا نہ کپڑے سیاہ کرنا نہ ہلاکت کی بد دعائیں کرنا۔تفسیر الصافي سورة المستند صفحه ۳۷ حضرت حمزہ کی شہادت پر آنحضرت ﷺ کا اپنا نمونہ یہ نزد امراد اظهار جزعی نکرد و آهی نکشید و آلی از دیده جاری حیات القلوب جلد ۲ صفحہ ۱۷۰ نہ گردانید نه جزع فزع کی نہ آہ کھینچی اور نہ ہی آنسو بہائے۔بلکہ انصاری عورتوں کو فرمایا "مر وهن فلير جعن و مسند احمد بن مبل جلد ۳ صفحه ۸۳ لا يبكين على ها لك بعد اليوم " ا نہیں کہہ دو واپس چلی جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر ہرگز نہ روئیں۔۔15 حضرت علی نے آنحضرت ﷺ کی وفات پر فرمایا۔" وان الجزع القبيح الا عليك وان المصائب یک نح البلاغ صفحه ۱۳۵ لجليل وانه قبلك وبعدک لجلل " گویا آنحضرت کا سانحہ ارتحال سب سے اہم اسلامی مصیبت ہے مگر اس پر بھی واویلا کرنا نہ جائز تھا اور نہ جائز ہوا۔-16 ينزل الصبر على قدر المصيبة و من ضرب يده على نهج البلاغه صفحه ۱۲۸ مشهدی فخذه عند مصيبة حبط عمله مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارنا اجر کو باطل کر دیتا ہے۔-17 حضرت امام صادق نے ایک شخص کو اس کے بیٹے کی تعزیت بیٹے کرتے ہوئے فرمایا۔قدمات رسول الله صلى الله عليه واله وسلم من لا يحضره الفقيه جلد اول افعا لک به اسوة کیا آنحضرت ﷺ کی وفات میں مفردہ تیرے لئے کوئی نمونہ نہیں؟ -18 حضرت ابو عبداللہ نے فرمایا کہ جو جتلائے مصیبت ہو فروع کافی کتاب الجنائز فليذكر مصابة بالنبي صلى الله عليه واله وسلم فانه من اعظم المصائب 19 حضرت علی نے فرمایا۔واذا فارق الصبر الامور