کلام محمود — Page 80
۴۲ اے چشتہ علم و دی اے صاحب نماز کا اے ایک سال سے با صفا سے پاک طینت باسیا اے مقتدا اسے پیشوا اے میرزا اے رہنما اے مجھے اے مصطفے اپنے نائب رب العرمی کچھ یاد تو کیجے ذرا ہ ہم سے کوئی اقرار ہے یتے تھے تم جس کی خبر بند متی تھی میں یہاں کمر مٹ جائیگا سب شور و شرموت آیگی شیطان پور پاؤ گے تم فتح و ظفر ہوں گے تمہارے بحرو بر آرام سے ہوگی بسر ہوگا خدا منہ نظر واں تھے وہی سے خوبے یاں حالت ادبار ہے ہروں میں پر ہے بعین میں ہرنفس شیطاں کار میں ہو ہو ندائے نور دیں ، کوئی نہیں کوئی نہیں ہر ایک کے بے سریں کیں، ہے کبیر کا دیو لیں اک دم کو یاد آتی نہیں، درگاہ رب العالمیں بے مین ہے جان ترین حالت ہماری زار ہے کہنے کو سب تیار ہیں، چالاک ہیں مہشیار ہیں منہ سے تو سو اقرار ہیں، پر کام سے بیزار ہیں ظاہر میں سب ابرار ہیں، باطن میں سب شہر میں مسلم میں پر بدکارہیں ، میں ڈاکٹر پرزار میں حالات پر اسرار ہیں دل مسکن افکار ہے رساله تشحمید الاوزبان - ماه مارچ ساله