کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 302

کلام محمود — Page 217

۱۵۲ نکل گئے جو ترے دل سے خار کیسے ہیں جو تجھ کو چھوڑ گئے وہ نگار کیسے ہیں نہ آرزوئے ترقی نہ صدمہ ذلت خدا بچائے یہ لیل و نہار کیسے ہیں بھی سے خانہ شمار کا کھلا ہے در جو چھکے بیٹے ہیں وہ بادہ خوار کیسے ہیں یہ حسن خلق ہے تجھ میں نہ حُسن سیرت ہے تو ہی بتا کہ یہ نقش و نگار کیسے ہیں خُدا کی بات کوئی بے سبب نہیں ہوتی نہیں ہے ساتی تو ابر و بہار کیسے ہیں نہ غم سے غم نہ خوشی سے میری تجھے ہے خوشی خُدا کی ماریہ قرب و جوار کیسے ہیں نہ دل کو چین نہ سر پر ہے سایہ رحمت ستم ظریف ! یہ باغ و بہار کیسے ہیں نہ وصل کی کوئی کوشش نہ دید کی تدبیر خبر نہیں کہ وہ پھر بے قرار کیسے ہیں رہی ہے چال وہی راہ ہے وہی ہے روش ستم وہی ہیں تو پھر شرمسار کیسے ہیں ده لالہ رخ ہی یہاں پر نظر نہیں آتا تو اس جہان کے یہ لالہ زار کیسے ہیں دہ حسرتیں ہیں جو پوری نہ ہو سکیں افسوس بتاؤں کیا میرے دل میں مزار کیسے ہیں مصیبتوں میں تعاون نہیں تو کچھ بھی نہیں جو غم شریک نہیں غمگسار کیسے ہیں * اخبار الفضل جلد ۵ - ۲۳ مئی ۱۹۵۷ء لاہور۔پاکستان