کلام محمود — Page 1
اپنے کرم سے بخش دے میرے خدا مجھے بیمارعشق ہوں ترا دے تو شفا مجھے جبتک کہ دم میں دم ہے اسی دین پر انہوں اسلام پر ہی آئے جب آئے قمنا مجھے بے کس نواز ذات ہے تیری ہی اسے خُدا آتا نظر نہیں کوئی تیرے سوا مجھے منجملہ تیرے فضل و کرم کے ہے یہ بھی ایک میٹی سیخ سا ہے دیا رہنا مجھے تیری رضا کا ہوں میں طلب گار ہر گھڑی گریہ سٹے تو جانوں کہ سب کچھ ملا مجھے ہاں ہاں نگاہ رحم ذرا اس طرف بھی ہو بھیر گند میں ڈوب رہا ہوں بچا مجھے مونٹی کے ساتھ تیری رہیں کن ترانیاں زنہار میں نہ مانوں گا چیتر دکھا مجھے احسان نہ تیرا بھولوں گا تازیست مسیح پہنچا دے گر تو یار کے در پر ذرا مجھے سجدہ کناں ہوں در پہ تے اے مرے خدا اُٹھوں گا جب اٹھائیگی یاں سے قضا مجھے ڈوبا ہوں بحر عشق الہی میں شادیں کیا دے گا خاک فائدہ آب بقا مجھے ه سال تشمی الناز بان ماه اگست شله ت یه نظم سنشانہ کی ہے جب آپ شاد تخلص رکھتے تھے۔