کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 91
۹۱ ہر لائے جاتے ہیں وہ ساری سورتیں مضمون کے لحاظ سے ایک ہی لڑی میں پروئی ہوئی ہوتی ہیں یا لے " وأتوا البيوتَ مِنْ اَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (البقره: ۱۹۰) اس میں بتایا کہ کامیابی ہمیشہ ابواب ہی کے ذریعہ آنے سے ہوا کرتی ہے۔اگر تم ایسا نہیں کرتے اور دروازوں میں سے داخل ہونے کی بجائے دیواریں پھاند کر اندر داخل ہونا چاہتے ہو تو تمہیں کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔مثلاً لڑائی کے زمانے میں اگر تم مہتھیاروں سے کام لینا نہ سیکھو اور جنگی فنون کی تربیت نہ لو بلکہ یوں ہی سینہ تان کر دشمن کے سامنے چلے جاؤ تو تم کامیاب نہیں ہو سکتے لیکن اگر چھوٹی سے چھوٹی تلوار بھی تمہارے پاس ہو یا تمہیں لاٹھی چلانا ہی آتا ہو توتم قوم کے لئے مفید وجود بن سکتے ہو۔پس کامیابی کے لئے ان ذرائع اور اسباب کو استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہوئے ہیں یا کہ آیت لَا تَقُولُوا لِمَنْ الْقَى إِلَيْكُمُ السَّلمَ (نساء: ۹۵) سے یہ اہم قانونی نکته اخذ فرمایا کہ :- تفسیر کبیر جلد اول جز اول ص : کے تفسیر سورة البقره از حضرت مصلح موعود من ۲۱۹۴۴۱