کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 8
اس عظیم الشان پس منظر سے ظاہر ہے کہ یہ مضمون عالمی اور دائمی نوعیت کا حامل ہے جس کا براہ راست تعلق نہ صرف پوری ملت اسلامیہ سے ہے بلکہ عہد حاضر اور زمانہ مستقبل کے ہر فرد بشر سے ہے۔خدا کرے کہ جناب الہی سے یہ توفیق بھی عطا ہو جائے کہ یہ عاجزا سے کما حقہ بیان کر سکے۔آمین معارف قرآنی کا گھر تعلق مطقرون سے اللہ جل شانہ قرآن کریم کی جلالت مرتبت اور عظمت شان کا بصیرت افروز تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :- فلاا قسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ هُ وَإِنَّهُ لَقَسَمُ لوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمُ هُ إِنَّهُ لَقَرانَ كَرِيمٌ لا في كتب مكنون لا لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ، تَنْزِيلُ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ (الواقعة : ۷۶-۸۱) سید نا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے مقدس الفاظ میں اس آیت کا ترجمہ اور تفسیر یہ ہے :۔کی قسم کھاتا ہوں مطالع اور مناظر نجوم کی اور یہ قسم ایک بڑی قسم ہے۔اگر تمہیں حقیقت پر اطلاع ہو کہ یہ قرآن ایک بزرگ اور عظیم الشان کتاب ہے اور اس کو وہی لوگ چھوتے ہیں جو پاک باطن ہیں اور اس قسم کی مناسبت اس مقام میں یہ ہے کہ قرآن کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ وہ کریم ہے یعنی روحانی بزرگیوں پر