کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 16
۱۶ انقشبندی مجد و صدی سیز و ہم (پیر کوٹھا شریف، خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ دیگر الہامی کتب کے مطالب انکی زبانوں کو جاننے والے علماء ظواہر پر منکشف ہوتے رہتے ہیں مگر قرآن کریم کے متعلق یہ شرط ہے کہ خواہ ظاہری طور پر کوئی بڑا عالم نہ ہولیکن اللہ تعالی سے الہام و کلام کا سچا تعلق رکھتا ہو قرآنی معارف اسی پر کھلیں گے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک سے لے کر آج تک قرآنی علوم صرف خدا کے برگزیدہ بندوں کے ہاتھ سے ہی گھلتے رہتے ہیں۔جہاں دوسروں نے بڑی بڑی ٹھوکریں کھائیں جو لوگوں کے لئے گمراہی کا موجب بنیں وہاں صوفیہ اور اولیاء نہ صرف ان سے محفوظ رہے بلکہ انہوں نے لاکھوں کروڑوں کو كلمه طيبة لا إله إلا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ" کے ذریعہ مسلمان کر کے درگاہ خدا وندی تک پہنچا دیا۔علوم قرآنی کے انکشافات کا انقلابی دور چودھویں صدی ہجری میں علوم قرآنی کے انکشاف کا ایک انقلابی دور ه ولادت ۱۲۱۰ در وفات ۱۲۹۴ه کے الفتوحات المكية جلادس من روضہ قیومی کا ترجمہ صدیقه محمود یہ ص۲۲۳ علم الكتاب طلقت ، سوانح عمری حضرت مولوی عبد الله غر نوی مثا مطبوعه 161-177 امرتسر، سلك السير في نظم الدرر مطبوعه و علی ۳۳۳)۔