کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 154 of 265

کلامِ طاہر — Page 154

رنج تنہائی اُف یہ تنہائی تری اُلفت کے مٹ جانے کے بعد تیری فرقت میں تو اتنا رنج تنہائی نہ تھا اب پتا کر عمر ہوش آئی تو یہ عقدہ کھلا عشق ہی پاگل تھا ورنہ میں تو سودائی نہ تھا کیسی کیسی شرم تھی ، کیا کیا حیا تھی پردہ دار پیار جب معصوم تھا اور وجه رسوائی نہ تھا وائے پیری کی پشیمانی ، جوانی کے جنون خود سے میں شرمندہ تھا، مجھ سے مرا آئینہ تھا 154