کلامِ طاہر — Page 130
ابراهیم وقت کا سفیر تھا جسے تسلط آگ پر وہ بے شمار گھر جلا کے غلام اُس کے در کا تھا جس کی آگ تھی غلام در جب پہنچی شعلہ زن وہ اُس کے گھر سرد پڑ گئی اور ہو گئی ڈھیر آپ اپنی راکھ پر بے عظیم - انڈونیشیا جايا له - انڈونیشیا تیری سرزمیں کی خاک مثل آدم لياء Par پھر انہی کی خاک پاک ہے شمار باخدا اُٹھے اُن کی سرمدی قبور آج بھی یہی ندا اُٹھے کاش تیری مٹی ނ مدام جو اُٹھے وہ ابے عظیم - انڈونیشیا جايا له - انڈونیشیا کتنا خوش نصیب ہوں کہ میں تجھ سے ہو رہا ہوں ہم کلام اک غلام خیر الانبياء کا غلام در غلام در غلام بھیجتا ہوا سلام تحفہ خلوص لایا ہوں نفرتوں کا میں نہیں نقیب صلح و آشتی کا ہوں پیام 130