کلامِ طاہر — Page 90
وائے سر ، چن کی اُتاری گئی چادر وہ سر پا بسته پدر اور پتر جن کے برابر ہوتی رہی رسوا دیکھے ہیں تیری آنکھ نے پتھر بھی وہ ، زبانیں ہوں تو ، کرنے لگیں فریاد کہیں دختر کہیں مادر ظلم کہ جن پر بوسنياً بوسنیا بوسنیا ! زنده باد قبروں میں پڑے عرش نشینوں کی رولے ہوئے مٹی میں نگینوں کی قسم بہنوں کی اُمنگوں کے دفینوں کی قسم کے سلگتے ہوئے ماؤں کے ہے ہے ؟ سینوں کی قسم ہے ہو جائیں گے آنگن ترے اُجڑے ہوئے آباد اے بوسنیا بوسنياً ! 90 بوسنیا زنده باد