کلام محمود مع فرہنگ — Page 353
مراک جاہل یہ باتیں سُن کے بھر جائے گا غصہ سے ہمارے قتل پر آمادہ ہر چھوٹا بڑا ہو گا وہ جن کے پیار و الفت کی قسم کھاتے تھے ہم اب تک ہر اک اُن میں سے کل پیاسا ہمارے خُون کا ہو گا تعلق چھوڑ دیں گے باپ ماں بھائی برادر سب جو اب تک یار جانی تھا وہ کل نا آشنا ہو گا وہ جس کی محبت و مجلس میں دن اپنے گزرتے تھے ہمارے ساتھ اس کا گل سُلوک ناروا ہو گا ہماری سنگ باری کے لیے پتھر چنیں گے سب کمر میں ہرکس و ناکس کے اک خنجر بندھا ہو گا اکابر جمع ہو کر بھنگیوں کے گھر بھی جائیں گے کہیں گے گر کرو گے کام ان کا تو بڑا ہو گا اگر سودے کی خاطر ہم کبھی بازار جائیں گے سراک تاجر کہے گا جا میاں ! ورنہ بُرا ہو گا 349