کلام محمود مع فرہنگ — Page 336
گہوارۂ علوم تمھارے بنیں قلوب پھٹکے نہ پاس تک بھی جہالت خُدا کرے بدیوں سے پہلو اپنا بچاتے رہو مدام تقولی کی راہیں طے ہوں بعلت خُدا کرے سُننے لگے وہ بات تمھاری بذوق و شوق دُنیا کے دل سے دور ہو نفرت خُدا کرے اخلاص کا درخت بڑھے آسمان تک بڑھتی رہے تمھاری ارادت خُدا کرے پھیلاؤ سب جہان میں قولِ رسول کو حاصل ہو شرق و غرب میں سطوت خُدا کرے پایاب ہو تمھارے لیے بحر مغرفت کھل جائے تم پہ راز حقیقت خُدا کرے پہ اٹتا رہے ترقی کی جانب قدم ہمیش ٹوٹے کبھی تمھاری نہ ہمت خُدا کرے تبلیغ دین و نشر ہدایت کے کام پر مائل رہے تمھاری طبیعت خُدا کرے سایہ فگن رہے وہ تمھارے وجود پر شامل رہے خُدا کی عنایت خُدا کرے زندہ رہیں علوم تمھارے جہان میں پائندہ ہو تمھاری لیاقت خُدا کرے جاب میں بھی نظر آئے اس کی شان تم کو عطا ہو ایسی بصیرت خُدا کرے ہر گام پر فرشتوں کا شکر ہو ساتھ ساتھ ہر ملک میں تمھاری حفا تحت خُدا کرے قرآن پاک ہاتھ میں ہو دل میں نور ہو مل جائے مومنوں کی فراست خُدا کرے دنبال کے بچھائے ہوئے جال توڑ دو حاصل ہو تم کو ایسی ذہانت خُدا کرے پرواز ہو تمھاری نہ افلاک سے بکند پیدا ہو بازوؤں میں وہ قوت خُدا کرے 333