کلام محمود مع فرہنگ — Page 225
99 صاحبزادی امتہ القیوم کی تقریب نصتانہ کے موقع پر کل دوپہر کو ہم جب تم سے ہوئے تھے رخصت ظاہر میں چُپ تھے لیکن دل خون ہو رہا تھا افسردہ ہو رہا تھا محزون ہو رہا تھا اے میری پیاری بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا میری کمر کی پیٹی تم یاد آ رہی ہو دل کوستا رہی ہو ئیں کیا کروں کہ ہر دم تم دُور جا رہی ہو ٹوٹی ہوئی کمر کا اللہ ہی ہے سہارا اللہ ہی ہے ہمارا اللہ ہی ہو تمھارا اللہ کی تم پر رحمت اللہ کی تم پہ برکت اللہ کی ہو عِنایت اللہ کی مہربانی 223