کلام محمود مع فرہنگ — Page 168
66 ئیں تو کمزور تھا اس واسطے آیا نہ گیا کسی طرح مانوں کریم سے بھی بلایا نہ گیا نفس کو بُھولنا چاہا پہ بُھلایا نہ گیا جان جاتی رہی پر اپنا پرایا نہ گیا عشق اک راز ہے اور راز بھی اک پیارے کا مجھ سے یہ راز صدافسوس چھپایا نہ گیا دیکھ کر ارض و سما بارِ گران تشریع رہ گئے ششدر و حیران اُٹھایا نہ گیا ہم بھی کمزور تھے طاقت بھی ہمیں بھی کچھ قول آقا کا مگر ہم سے ہٹایا نہ گیا کس طرح تجھ کو گناہوں پہ ہوئی یوں جرات اپنے ہاتھوں سے کبھی زہر تو کھایا نہ گیا کُفر نے لاکھ تدابیر کیں لیکن پھر بھی صفحۂ دہر سے اسلام مٹایا نہ گیا ملتا کس طرح کہ تدبیر سی صائب نہ ہوئی دل میں ڈھونڈا نہ گیا غیر یں پایا نہ گیا اس کے جلوے کی بتاؤں تمہیں کیا کیفیت مجھ سے دیکھا نہ گیا تم کو دکھایا نہ گیا جاہ و عزت تو گئے، کبر نہ چھوٹا مسلم بھوت تو چھوڑ گیا تجھ کو پر سایہ نہ گیا چین سے بیٹھتے تو بیٹھتے کس طرح سے ہم دور بیٹھا نہ گیا پاس بٹھایا نہ گیا جان محمود تر احسن ہے اک حُسن کی کان ! لاکھ چاہا پہ ترا نقش اُڑایا نہ گیا اخبار الفضل جلد 12 - 17 اگست 1924 ء 167