کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 136

دشمنی ہو نہ محبتان محمد سے نہیں جو معانی ہیں تھیں ان سے کوئی کام نہ ہو اُن کے ساتھ رہو فتنوں میں حصہ مت لو باعث فکر و پریشانی حکام نہ ہو اپنی اس عمر کو اک نعمت عظمی اسمجھو بعد میں تاکہ تمھیں شکوہ ایام نہ ہو حُسن ہر رنگ میں اچھا ہے مگر خیال رہے دانہ سمجھے ہو جسے تم وہ کہیں دام نہ ہو تم کر یہ ہو کہ جرنیل ہو یا عالم ہو ہم نہ خوش ہوں گے کبھی تمہیں گر اسلام نہ ہو مدیرہ سیلف رسپیکٹ کا بھی خیال رکھو تم بیشک یہ نہ ہو یہ کہ کسی شخص کا اکرام نہ ہو سر ہوئیر ہوگی ہو کہ آسائش ہو کچھ بھی ہو بند گر دعوت اسلام نہ ہو تم نے دنیا بھی جو کی فتح تو کچھ بھی ہ کیا نفس خوشی و جفا کیش اگر رام نہ ہو من و احسان سے اعمال کو کرنا نہ خراب رشتہ وصل کہیں قطع سر بام نہ ہو بھولی مت کہ نزاکت ہے نصیب نہوں مرد وہ ہے جو جفاکش ہو گل اندام نہ ہو شکل کے دیکھ کے گہنا نہ مگس کی مانند دیکھ لینا کہ کہیں درد یہ کام نہ ہو یا د رکھنا کہ کبھی بھی نہیں پاتا عزت یار کی راہ میں جب تک کوئی بد نام نہ ہو کام مشکل ہے بہت منزل مقصود ہے دُور کے میرے اہل وفاشست کبھی کام نہ ہو گامزن ہو گے رو صدق وصفا پر گر تم کوئی مشکل نہ رہے گی جو سر انجام نہ ہو حشر کے روز نہ کرنا ہمیں رسوا و خراب پیار و آموخته درس وفا خام نہ ہو 135