کلام محمود مع فرہنگ — Page 102
سرو بھی ہیں سرف قد رہتے اُسی کے سامنے قمریاں بھی ہیں محبت میں اُسی کی بے قرار سب حسینانِ جہاں اس کے مقابل ایچ ہیں ساری دُنیا سے نرالا ہے وہ میرا شہر یار اب تو سمجھے کس کے پیچھے ہے مجھے یہ اضطرار یاد میں کسی ماہ رُو کی ہوں میں رہتا اشکبار کسی کی فُرقت میں ہوا ہوں رنج و غم سے ہمکنار ہجر میں کس کی تڑپتا رہتا ہوں لیل و نہار کس کے تغل لب نے چھینا سب شکیب اضطیار کس کی دُر دیدہ نگاہ نے لے لیا میرا قرار کین کے نازوں نے بنایا ہے مجھے اپنا شکار کس کے غمزہ نے کیا ہے مثل باراں اشکبار ہائے پر اُس کے مقابل میں نہیں میں کوئی چیز وہ سراپا نور ہے میں مُضغہ تاریک وتار 102