کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 24
۲۴ متقد و تالیفات بھی کر چکے تھے۔اس لئے مجلس تمر باب قرآن مجید" (حیدر آباد دکن) نے امحرم الحرام ۱۳۵۶ مطابق ۹۳۳ار سے) یہ رسالہ جناب مودودی صاحب کی ادارت میں دے دیا۔مجلس کے ارکان کی نظر میں قرآنی انقلاب دماغی اور ذہنی اور روحانی انقلاب کا نام تھا۔اسی لئے مجلس کی تمام تر سرگرمیاں صرف قرآنی تعلیمات کی اشاعت تک ہی محدود رہیں۔مگر افسوس مجنس کا یہ رسالہ جناب مودودی صاحب کے ہاتھ آنے کے بعد رفتہ رفتہ اپنی بنیادی حیثیت کھو بیٹھا۔بعد اور میلہ کی جناب سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کے ذاتی نظریات کا ترجمان بن گیا۔حتی کہ جب۔۔۔مودودی صاحب خیار یہ آباد کو خیر باد کہ کے ۱۹۳۶ میں سابق پنجاب میں آگئے۔اور رسالہ پر ان کی واحد اجارہ داری قائم ہوگئی تو انھوں نے اشتراکیت اور فاشزم اور دوسرے لا دینی نظاموں سے اسلام کومشابہت دیتے ہوئے لکھنا شروع کر دیا کہ کیہ اسٹیٹ فائشی اور اشترا کی حکومتوں سے ایک گونہ مماثلت رکھتا ہے " را سلام کا نظام سیاسی از جناب مودودی صاحب) ر جو الہ طلوع اسلام دسمبر له ص۱۳) اسی طرح اُن کے رفقاء کی طرف سے سکھا گیا کہ اس کا سیاسی نظام صرف ظاہر میں اسلام سے ہی بحث کرتا ہے اور اسی سے بحث کر سکتا ہے اس وجہ سے اس کے اندر جیسا کہ آپ نے دیکھا خارجیت اور انار گز مت تک کے لئے گنجائش نکل آتی ہے۔اسلامی ریاست شہر تریقے کے حقوق و فرائض - شائع کردہ مکتبہ جماعت اسلامی)